LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا میں جنگلات کی آگ، دُھویں سے عوام کو سانس لینے میں دشواری

News Image
انڈونیشیا میں جنگلات میں لگی شدید آگ کے باعث کم از کم دس صوبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ فضا میں زہریلا دُھواں پھیلنے سے مقامی آبادی کو سانس لینے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انڈونیشیا کے مختلف علاقوں میں جنگلات میں لگنے والی آگ شدت اختیار کر گئی ہے جس نے کم از کم دس صوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس ہولناک صورتحال کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں کی فضا میں زہریلے دُھویں کی گھنی تہیں پھیل گئی ہیں، جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ فضا اتنی آلودہ ہو چکی ہے کہ گھروں سے باہر نکلنا محال ہو گیا ہے اور ہر طرف دھند جیسی کیفیت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ حکام کے مطابق، متاثرہ صوبوں میں فضا کا معیار انتہائی خطرناک سطح تک گر چکا ہے، جس سے انسانی صحت بالخصوص بچوں اور بزرگوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اسپتالوں میں سانس کے امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کی جانب سے 'ہم سانس نہیں لے سکتے' کی صدائیں بلند کی جا رہی ہیں کیونکہ وہ اس خطرناک دُھویں کے حصار میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انتظامیہ اور ریسکیو ادارے آگ پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سرگرمیوں میں مصروف ہیں، تاہم موسمی حالات امدادی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اس آگ پر قابو نہ پایا گیا تو اس سے ماحولیاتی تباہی کے ساتھ ساتھ خطے میں صحت کا ایک بہت بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے اور شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بین الاقوامی برادری نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انڈونیشیا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے جبکہ زمینی اور فضائی ذرائع سے آگ بجھانے کی کوششیں تاحال جاری ہیں۔