LIVE
Loading Breaking News...

سینیٹ میں بانی پی ٹی آئی کے علاج پر ہنگامہ، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

News Image
اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران بانی پی ٹی آئی کے اسپتال میں علاج کے معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ اپوزیشن نے عدالت عظمیٰ کے احکامات کی مبینہ عدولی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسلام آباد میں منگل کے روز سینیٹ کا اجلاس ایک بار پھر ہنگامہ خیز ثابت ہوا جہاں تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم کے طبی علاج کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے اراکین کے درمیان سخت نوک جھونک دیکھنے میں آئی۔ دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر سپریم کورٹ کے فیصلوں کی توہین اور عدالتی احکامات کی مبینہ عدولی کے الزامات عائد کیے گئے۔ یہ تلخ بحث اس وقت شروع ہوئی جب اجلاس کے دوران صدارت کرنے والے سینیٹر شہادت اعوان نے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی اس قرارداد کو مسترد کر دیا جس میں بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم پر من و عن عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر بحث کی اجازت دی گئی۔ سیشن کے دوران پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین اور عدلیہ کے احکامات کی بالادستی ہر صورت قائم رکھی جانی چاہیے اور حکومت عدالت عظمیٰ کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینک سکتی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اٹھارہ اگست کو سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا لیکن سیکیورٹی خدات کا بہانہ بنا کر انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لے جایا گیا اور پھر واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ آپ عمران خان کی سیاست کی مخالفت ضرور کریں لیکن ان کی صحت پر سیاست نہ کھیلی جائے۔ اجلاس میں حکومت کا دفاع کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت آئین کے دائرے میں رہ کر کام کر رہی ہے اور عدالت عظمیٰ کے حکم کی مکمل تعمیل کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت نے سیکیورٹی انتظامات کا اختیار انتظامیہ کو دیا تھا اور موجودہ سیکیورٹی و امن عامہ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہیں ایک سرکاری اسپتال میں لے جایا گیا جہاں مستند ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا اور صحت تسلی بخش قرار دی۔ رانا ثنا اللہ نے ایوان میں کہا کہ یہ معاملہ اس وقت عدالت کے زیر سماعت ہے اور اس کی رپورٹ سولہ ستمبر کو جمع کرائی جائے گی، اس لیے عدالت کو ہی فیصلہ کرنے دیں کہ حکم پر عمل درآمد ہوا ہے یا نہیں۔ دوسری جانب سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت پر زور دیا کہ وہ کشادہ دلی کا مظاہرہ کرے اور عدالتی احکامات کی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنائے تاکہ ملک میں جاری سیاسی تناؤ کو کم کیا جا سکے۔