LIVE
Loading Breaking News...

صدر زیلنسکی کا بیان: یوکرین امن چاہتا ہے لیکن ہتھیار نہیں ڈالے گا

News Image
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے یومِ آزادی کے موقع پر اپنے خطاب میں واضح کیا ہے کہ یوکرین روس کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گا بلکہ امن کا خواہاں ہے۔ اس موقع پر عالمی رہنماؤں نے کیف کا دورہ کر کے یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ملک کے یومِ آزادی کے موقع پر ایک انتہائی پُرعزم اور سخت خطاب کرتے ہوئے روس کے سامنے واضح سرخ لکیر کھینچ دی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ یوکرین امن کا طلبگار ہے لیکن وہ کسی بھی صورت میں دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا اور نہ ہی اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ کرے گا۔ صدر زیلنسکی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو طویل عرصے سے جاری جنگ کے دوران شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے قوم کے نام اپنے پیغام میں ملک کی بہادر مسلح افواج اور عوام کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ یوکرین کی آزادی ناقابلِ تسخیر ہے۔ اس اہم موقع پر دنیا بھر سے کئی اہم رہنماؤں نے یوکرین کے دارالحکومت کیف کا دورہ کیا۔ ان دوروں کا بنیادی مقصد یوکرین کی قیادت اور عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا اور مشکل وقت میں ان کی پشت پناہی جاری رکھنے کا عزم دہرانا تھا۔ معزز مہمان رہنماؤں نے یوکرین کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جدید فوجی ٹیکنالوجی اور سازوسامان کی فراہمی کے نئے معاہدوں اور وعدوں کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں برطانیہ نے خاص طور پر ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے جدید اور خفیہ ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ فضائی اور زمینی خطرات کا بہتر طریقے سے مقابلہ کر سکیں۔ عالمی سطح پر یوکرین کے اتحادی ممالک کی جانب سے یہ حمایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور سرحدی علاقوں میں مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ اتحادیوں کی طرف سے ملنے والی یہ نئی تکنیکی اور عسکری امداد نہ صرف مورچوں پر لڑنے والے فوجیوں کا حوصلہ بلند کرے گی بلکہ ملک کی مجموعی دفاعی پوزیشن کو بھی مستحکم بنائے گی۔ بین برادری نے ایک بار پھر یوکرین کی ارضی سالمیت اور آزادی کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، صدر زیلنسکی کا یہ خطاب اندرونِ ملک حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ یوکرین روس کے دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں۔ ملک کے یومِ آزادی پر ہونے والی ان تقریبات اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگرچہ جنگ کے بادل ابھی چھٹے نہیں ہیں، تاہم یوکرین اور اس کے اتحادی کسی بھی طویل مدتی چیلنج سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔