Business
مائیکل برری کی علی بابا کے حصص کے بارے میں نئی پیشگوئی
معروف سرمایہ کار مائیکل برری نے مصنوعی ذہانت کے دباؤ کے باعث علی بابا کے حصص میں مزید بڑی گراوٹ کی پیشگوئی کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ تکنیکی شعبے میں جاری تبدیلیوں کے درمیان اس کمپنی کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
معروف سرمایہ کار مائیکل برری نے چینی ای کامرس کی دیو قامت کمپنی علی بابا کے بارے میں ایک بار پھر اہم پیشگوئی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر علی بابا کے حصص میں مزید نمایاں گراوٹ آ سکتی ہے۔ برری کے مطابق، اگرچہ اس کمپنی کے شیئرز پہلے ہی اپنی قدر کا بڑا حصہ کھو چکے ہیں، لیکن موجودہ کاروباری رجحانات کو دیکھتے ہوئے قیمتوں میں مزید پچاس فیصد تک کمی خارج از امکان نہیں۔ تکنیکی شعبے میں جاری ہلچل اور سرمایہ کاروں کے بدلتے ہوئے رجحانات نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ اب مارکیٹ صرف انہی کمپنیوں کو نواز رہی ہے جو جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے اس دور میں ٹیکنالوجی کے شعبے کو شدید تقسیم کا سامنا ہے۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار ان اداروں کو ترجیح دے رہے ہیں جو مصنوعی ذہانت کی سرمایہ کاری سے فوری طور پر خاطر خواہ منافع کمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، روایتی ای کامرس اور دیگر پرانے کاروباری ماڈلز پر چلنے والی کمپنیوں کو اس نئے تکنیکی طوفان کی وجہ سے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علی بابا جیسی بڑی کمپنیوں کو بھی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے تاکہ وہ مارکیٹ کے بڑھتے ہوئے مسابقتی ماحول میں اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکیں۔
مائیکل برری کا شمار دنیا کے ان بااثر سرمایہ کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ماضی میں بھی کئی بڑی مالیاتی تبدیلیوں کی درست پیشگوئی کی تھی۔ ان کا تازہ ترین تجزیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی منڈیوں میں سرمایہ کار اب انتہائی احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور وہ کسی بھی ایسے ادارے میں طویل مدتی سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں جو جدید رجحانات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں تاخیر کا شکار ہو۔ ماہرینِ معاشیات کا بھی یہی ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والی کمپنیوں کے لیے اپنے حصص کی قدر کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔
اس تمام صورتحال کے تناظر میں، سرمایہ کاروں کی نظریں اب علی بابا کی آئندہ مالیاتی رپورٹوں اور انتظامی فیصلوں پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اگر کمپنی نے مصنوعی ذہانت کے محاذ پر کوئی موثر اور جارحانہ حکمت عملی اختیار نہ کی، تو مائیکل برری کی یہ پیشگوئی حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے جس سے اس کے شیئرز ہولڈرز کو مزید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔