LIVE
Loading Breaking News...

پولیس کی جانب سے عدالتوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر پابندی

News Image
برطانوی پولیس فورسز کو فوجداری مقدمات میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بعض استعمال کو فوری طور پر روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ عدالتی بیانات کی تیاری اور دیگر قانونی امور میں ممکنہ خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
انگلستان اور ویلز کی پولیس فورسز کو یہ سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ فوجداری انصاف کے نظام میں جنریٹیو مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال عارضی طور پر معطل کر دیں۔ اس فیصلے کے تحت پولیس افسران کو خاص طور پر عدالتی بیانات کی تیاری اور دیگر حساس نوعیت کے قانونی دستاویزات میں اے آئی ٹیکنالوجی سے گریز کرنے کا کہا گیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے وقت عدالتی کارروائی میں کسی بھی قسم کی تکنیکی خامی یا غیر مصدقہ معلومات کا خطرہ نہ رہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی پولیس کے روزمرہ کے کاموں میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن عدالتوں میں اس کے براہ راست استعمال کے لیے مزید واضح ضوابط اور جانچ پڑتال کی ضرورت ہے۔ اس پابندی کے بعد اب پولیس محکمے اندرونی سطح پر اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح محفوظ اور قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عدالتی نظام کے تقدس اور فیصلوں کی درستگی کو برقرار رکھنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے، کیونکہ جنریٹیو اے آئی بعض اوقات غلط حقائق یا غیر درست شواہد بھی پیش کر سکتی ہے۔ پولیس حکام اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ مستقبل میں جب بھی اس ٹیکنالوجی کو دوبارہ بحال کیا جائے، تو اس کے لیے انتہائی سخت سکیورٹی اور معیار کے اصول مرتب کیے جائیں تاکہ عدالتی کارروائی کے معیار پر کوئی حرف نہ آئے۔