Technology
بیجنگ روبوٹ اولمپکس اور چین کی ٹیکنالوجی ترقی کا سفر
بیجنگ میں شروع ہونے والے پانچ روزہ عالمی ہیومنائڈ روبوٹ گیمز نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کرلی ہے جہاں ایک روبوٹ کی تیز رفتار کارکردگی نے سب کو دنگ کردیا ہے۔ یہ سفر 1999ء میں صوبہ فوجیان میں کم بجٹ کے مقامی مقابلوں سے شروع ہوا تھا جو اب عالمی سطح پر مقبول ہوچکا ہے۔
سنہ 1999ء میں چین کے صوبے فوجیان کی مقامی حکومت نے کالج کی ٹیموں کے لیے کم بجٹ کے روبوٹکس کھیلوں کے مقابلوں کا آغاز کیا تھا، اور کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ دہائیوں بعد یہ چھوٹا سا قدم بیجنگ کے روبوٹ اولمپکس کی شکل اختیار کرکے دنیا بھر میں سرخیاں بنے گا۔ آج بیجنگ میں منعقدہ پانچ روزہ عالمی ہیومنائڈ روبوٹ گیمز نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے، بالخصوص جب ایک روبوٹ کی تیز رفتار دوڑ نے جمیکن سپرنٹ لیجنڈ یوسین بولٹ کے ریکارڈ کے حوالے سے دنیا کو حیران کر دیا۔ اس شاندار کامیابی کے پیچھے حکومتی پالیسیوں، مسلسل سرمایہ کاری اور محنتی سائنسدانوں کی طویل جدوجہد کارفرما ہے۔
ابتدائی دنوں میں یہ مقابلے انتہائی محدود وسائل اور بنیادی درجے کی ٹیکنالوجی کے ساتھ شروع کیے گئے تھے، جن کا مقصد طلباء میں روبوٹکس اور انجینئرنگ کے شعبے میں دلچسپی پیدا کرنا تھا۔ تاہم، چینی حکومت نے اس شعبے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس پر خصوصی توجہ مرکوز کی اور اسے قومی ترقی کا ایک اہم ستون قرار دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فنڈنگ میں اضافہ کیا گیا، جدید لیبارٹریز قائم کی گئیں اور صنعت و اکیڈمیا کے درمیان تعاون کو فروغ دیا گیا، جس کے نتیجے میں روبوٹکس کی ٹیکنالوجی نے حیرت انگیز ترقی کی۔
موجودہ ورلڈ ہیومنائڈ روبوٹ گیمز میں دنیا بھر سے بہترین ٹیمیں اور ادارے حصہ لے رہے ہیں، جو مصنوعی ذہانت اور میکانیکل انجینئرنگ کا بہترین امتزاج پیش کر رہے ہیں۔ ان کھیلوں کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ چین روایتی مینوفیکچرنگ سے نکل کر اب ہائی ٹیک اور جدید ترین سائنسی میدان میں دنیا کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مقابلے نہ صرف تکنیکی ترقی کو تیز کرتے ہیں بلکہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نوجوان نسل کو بھی تیار کرتے ہیں۔