LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کی معیشت اور سکیلنگ کے لیے نئی حکمت عملی

News Image
کاروباری اداروں میں مصنوعی ذہانت کا رجحان اب آزمائشی مرحلے سے نکل کر پیداواری حقیقت کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر لاگو کرنے کے لیے ایک بالکل نئی معاشی اور مالیاتی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔
کاروباری دنیا میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا رجحان اب تیزی سے اس جوش و خروش سے ہٹ کر زمینی حقائق کا سامنا کر رہا ہے جو ابتدائی آزمائشی مراحل میں دیکھا گیا تھا۔ جب تنظیمیں جنریٹو اے آئی کو اپنے روزمرہ کے نظام میں شامل کرنے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں، تو انہیں یہ احساس ہو رہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر چلانا اور برقرار رکھنا روایتی آئی ٹی سسٹمز کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے۔ اس تبدیلی نے ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا موجودہ مالیاتی ماڈلز اس جدید تقاضے کو پورا کرنے کے قابل ہیں یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کاروباری اداروں کو اب محض اے آئی کے پائلٹ پروجیکٹس پر اکتفا کرنے کے بجائے ایک جامع معاشی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ جب بات اے آئی سسٹمز کو بڑے پیمانے پر پھیلانے کی آتی ہے تو کمپیوٹنگ پاور، ڈیٹا سسٹمز کی تیاری، سیکیورٹی اور ہنر مند عملے کی لاگت آسمان کو چھونے لگتی ہے۔ اگر کمپنیاں ان اخراجات کا پہلے سے درست تخمینہ نہیں لگاتیں، تو یہ ٹیکنالوجی فائدے کے بجائے مالی بوجھ بن سکتی ہے۔ اس لیے پائیدار ترقی کے لیے سرمایہ کاری اور منافع کے توازن کو نئے سرے سے مرتب کرنا ہوگا۔ نئی معاشی حکمت عملی کا ایک اور اہم پہلو رسک مینجمنٹ اور طویل مدتی کارکردگی کا حصول ہے۔ اداروں کو ایسے میٹرکس بنانے ہوں گے جو یہ واضح طور پر ناپ سکیں کہ اے آئی میں لگایا گیا ہر ایک روپیہ کمپنی کی پیداواری صلاحیت اور آمدنی میں کتنا اضافہ کر رہا ہے۔ صرف ہائپ یا مارکیٹ کے دباؤ میں آ کر اندھا دھند سرمایہ کاری کرنے کے دن اب لد چکے ہیں۔ آخر کار، مصنوعی ذہانت کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ کاروباری رہنما کتنی جلدی ایک پائیدار اور حقیقت پسندانہ معاشی ماڈل اپناتے ہیں۔ جب تک اے آئی کو ایک روایتی ٹول کے طور پر نہیں بلکہ ایک جامع کاروباری اثاثے کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا اور اس کے مطابق مالیاتی منصوبہ بندی نہیں کی جائے گی، تب تک اس کی حقیقی صلاحیت سے پورا فائدہ اٹھانا ناممکن ہوگا۔