LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور خلائی اسٹارٹ اپس پر اہم اقتصادی فورم کی رپورٹ

News Image
معاشی فورم کے دوران ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس سے کام کے طریقوں میں انقلاب آسکتا ہے تاہم اس کے لیے انسانی جواب دہی ناگزیر ہے۔ دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نے خلائی اسٹارٹ اپس کے نمائندگان سے ملاقات کر کے ان کے منصوبوں کا جائزہ لیا۔
نئی دہلی میں منعقد ہونے والے اکنامک ٹائمز ورلڈ لیڈرز فورم کے دوران کاروباری اور تکنیکی رہنماؤں نے اس بات پر گہرے اتفاق کا اظہار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید ایجنٹس مستقبل میں کام کرنے کے طریقوں کو یکسر بدل کر رکھ سکتے ہیں۔ تاہم مقررین کا یہ بھی ماننا تھا کہ ٹیکنالوجی کے اس بے پناہ پھیلاؤ سے پہلے سخت حکمرانی، ضابطہ اخلاق اور انسانی جواب دہی کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کے معاشی یا معاشرتی بحران سے بچا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق اے آئی صرف ایک ٹول نہیں بلکہ یہ پورے عالمی نظام کار کو نئے خطوط پر استوار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس عالمی فورم کے دوران جہاں مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر سیرحاصل بحث کی گئی، وہیں دوسری جانب ملک کے خلائی اور سائنسی شعبے میں بھی اہم سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کے ابھرتے ہوئے خلائی اسٹارٹ اپس کے بانیوں سے ملاقات کی اور ان کے نئے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر نوجوان کاروباری افراد کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خلائی تحقیقات اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میں نجی شعبے کی شمولیت ملک کو نئی بلندیوں پر لے جا سکتی ہے۔ اس طرح کی پیش رفت اس بات کی غماز ہیں کہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی اور خلائی سائنس اب محض سرکاری اداروں تک محدود نہیں رہی بلکہ نجی سرمائے، اسٹارٹ اپس اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج سے ایک نیا معاشی اور سائنسی دور شروع ہو چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز اور خلائی تحقیق کا باہمی اشتراک انسانیت کے لیے بے شمار نئی راہیں کھولے گا، جس کے لیے پالیسی سازوں کو پیشگی تیاری کرنا ہوگی۔