Technology
برازیل میں دنیا کا سب سے بڑا مالٹے کے فضلے سے توانائی کا پلانٹ
برازیل میں دنیا کا سب سے بڑا سنترے کے فضلے سے توانائی بنانے والا پلانٹ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ بڑا کارنامہ مالٹے کے جوس کے فضلے کو قابلِ تجدید توانائی اور بائیو گیس میں تبدیل کرے گا۔
برازیل میں دنیا کا سب سے بڑا کٹرس ویسٹ ٹو انرجی پلانٹ تعمیر کیا جا رہا ہے جو ماحولیاتی دوستی اور قابلِ تجدید توانائی کے حصول کی سمت میں ایک تاریخی قدم ہے۔ یہ جدید ترین اور وسیع و عریض سہولت 21 لاکھ مربع فٹ رقبے پر محیط ہے، جس کا بنیادی مقصد مالٹے کے جوس اور دیگر کھٹے پھلوں کے کارخانوں سے نکلنے والے فضلے اور گندے پانی کو قابلِ استعمال اور ماحول دوست توانائی میں تبدیل کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس شاندار منصوبے سے نہ صرف صنعتی فضلے کے تلف کرنے کے روایتی مسائل حل ہوں گے بلکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس پروجیکٹ کے حوالے سے فراہم کردہ تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ پلانٹ اپنی پیداواری صلاحیت کے عروج پر روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 17 لاکھ 70 ہزار مکعب فٹ بائیو گیس پیدا کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ یہ گیس روایتی ایندھن کا ایک بہترین اور سستا متبادل ثابت ہوگی، جو صنعتوں اور مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ کارخانوں سے نکلنے والے سیوریج اور ٹھوس فضلے کو سائنسی طریقوں سے ری سائیکل کرکے توانائی میں بدلنے کا یہ عمل سرکلر اکیسمی کو فروغ دینے کی ایک بہترین مثال ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے منصوبے گلوبل وارمنگ اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ برازیل میں دنیا کا یہ سب سے بڑا پلانٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ زراعت اور پھلوں کی صنعت سے جڑے ہوئے فضلے کو اگر درست حکمت عملی کے تحت استعمال کیا جائے تو یہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ اس سہولت کی تکمیل سے نہ صرف برازیل کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ دنیا بھر کے دوسرے ممالک کو بھی اس جدید ماڈل سے سیکھنے اور اپنے ہاں اس طرح کے ماحول دوست توانائی کے منصوبے شروع کرنے کی ترغیب ملے گی۔ حکومت اور متعلقہ ادارے اس منصوبے کو وقت پر مکمل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ پلانٹ جلد ہی باقاعدہ طور پر فعال ہو جائے گا، جو مستقبل کی توانائی کی ضروریات کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔