LIVE
Loading Breaking News...

لیم ریسرچ کی ریکارڈ آمدنی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ترقی

News Image
لیم ریسرچ نے چوتھی سہ ماہی میں 6.72 ارب ڈالر کی ریکارڈ آمدنی حاصل کی ہے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی کو مصنوعی ذہانت کی مانگ میں اضافے کے باعث 2027 تک کاروبار میں مزید وسعت کی توقع ہے۔
سیمی کنڈکٹر کے شعبے کی معروف ترین کمپنی لیم ریسرچ نے اپنے مالیاتی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ چوتھی سہ ماہی کے دوران کمپنی کی آمدنی 6.72 ارب ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں کمپنی کی آمدنی میں 30 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو کہ عالمی سطح پر چپ سازی کے آلات کی بڑھتی ہوئی مانگ کا واضح ثبوت ہے۔ کاروباری حلقوں میں اس کارکردگی کو انتہائی سراہا جا رہا ہے کیونکہ یہ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری اب رنگ لا رہی ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آئندہ مالی سال کی رہنمائی کے مطابق، سنہ 2027 کی پہلی سہ ماہی میں آمدنی کے 8.1 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس زبردست اضافے کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) ٹیکنالوجی پر ہونے والے بھاری اخراجات اور عالمی سطح پر اے آئی سسٹمز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کھپت ہے۔ جدید ترین ڈیٹا سینٹرز اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے چپ بنانے والی کمپنیاں دن رات کام کر رہی ہیں، جس سے لیم ریسرچ جیسے اداروں کو براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا انقلاب ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور آنے والے برسوں میں اس ٹیکنالوجی پر کارپورٹ سیکٹر کے اخراجات میں مزید تیزی آئے گی۔ لیم ریسرچ اس رجحان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے کیونکہ اس کی جدید مینوفیکچرنگ اور ریسرچ کی صلاحیتیں انڈسٹری کے معیار کے مطابق ہیں۔ کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کا بھی یہی ماننا ہے کہ اے آئی کی وجہ سے سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کا لائحہ عمل بدل رہا ہے اور آنے والا وقت اسمارٹ ڈیوائسز اور جدید مائیکرو چپس کے لیے انتہائی روشن ہے۔ اس مثبت کاروباری ماحول کے تناظر میں، سرمایہ کار بھی لیم ریسرچ کے حصص میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر عالمی معیشت میں کوئی بڑا تعطل پیدا نہ ہوا، تو لیم ریسرچ کا یہ ترقیاتی سفر آئندہ چند برسوں تک بلندیوں کو چھوتا رہے گا، جو کہ نہ صرف کمپنی کے حصص یافتگان بلکہ مجموعی طور پر عالمی ٹیک انڈسٹری کے لیے بھی ایک بہترین شگون ہے۔