World
امریکہ کی ایران پر نئی پابندیاں اور ساٹھ اداروں کا نشانہ بننا
امریکہ نے ایران کے تجارتی راستوں اور مالیاتی نیٹ ورک کو کمزور کرنے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے جن میں ساٹھ سے زائد اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ چین سمیت کئی ممالک نے امریکی اقدامات پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ کو مزید سخت کرتے ہوئے پابندیوں کی ایک نئی اور وسیع لہر کا اعلان کر دیا ہے۔ اس تازہ ترین اقدام کے تحت تقریباً ساٹھ سے زائد ایسے اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو مبینہ طور پر تہران کے مالیاتی اور تجارتی نیٹ ورک کو چلانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو صفر تک پہنچانا اور ان تمام ممالک اور کمپنیوں کے خلاف سخت اقدامات کرنا ہے جو تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس حکمت عملی کو عالمی سطح پر ایک بڑی اقتصادی یلغار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، چین نے امریکہ کی ان نئی پابندیوں پر انتہائی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بیجنگ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ان یکطرفہ پابندیوں کو غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ چین اور دیگر متاثرہ ممالک کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے خطے میں تناؤ میں مزید اضافہ ہوگا اور عالمی معیشت بالخصوص توانائی کی منڈیوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ان پابندیوں سے تہران کی حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم اس سے امریکہ اور اس کے تجارتی شراکت داروں بالخصوص چین کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ واشنگٹن میں پالیسی سازوں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات تہران کی مبینہ جارحانہ پالیسیوں کو لگام دینے اور اس کے نیوکلیئر و میزائل پروگراموں کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے ناگزیر ہیں۔