Business
ٹیمز واٹر کے اہداف ناممکن، چیف ایگزیکٹو کا بیان
برطانیہ کی بڑی واٹر سپلائی کمپنی ٹیمز واٹر کے چیف ایگزیکٹو کرس ویسٹن نے اعتراف کیا ہے کہ کمپنی کے لیے پانی کے اخراج کو روکنے کے موجودہ اہداف پر پورا اترنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی حالات کو بہتر بنانے کی خواہشمند ہے لیکن بعض مقررہ اہداف حقیقت پسندی پر مبنی نہیں ہیں۔
برطانیہ کی معروف اور سب سے بڑی واٹر یوٹیلیٹی کمپنی ٹیمز واٹر کے چیف ایگزیکٹو کرس ویسٹن نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ان کی کمپنی کے لیے پانی کے اخراج کو کم کرنے کے مقرر کردہ اہداف حاصل کرنا حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ کرس ویسٹن نے پارلیمانی کمیٹی یا متعلقہ فورم سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ اگرچہ کمپنی کا مقصد ہمیشہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا اور صارفین کو بہترین سہولیات فراہم کرنا ہے، تاہم زمینی حقائق اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ موجودہ لائحہ عمل کے تحت ان تمام اہداف کو مقررہ وقت میں پورا کیا جا سکے جو ریگولیٹرز کی جانب سے طئے کیے گئے ہیں۔ اس بیان نے برطانیہ کے واٹر سیکٹر میں جاری بحران اور بنیادی ڈھانچے کی حالت پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے، جہاں واٹر کمپنیوں کو پانی کے ضیاع اور سیوریج کے مسائل پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ٹیمز واٹر پہلے ہی مالی مشکلات اور بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے اس کے پرانے اور بوسیدہ انفراسٹرکچر کی مرمت اور دیکھ بھال کا کام شدید متاثر ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پائپ لائنوں سے پانی کا اخراج روکنے کے لیے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جو کہ موجودہ مالیاتی حالات میں کمپنی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ دوسری جانب، صارفین اور ماحولیاتی تنظیمیں واٹر کمپنیوں کی اس قسم کی تاویلات پر سخت برہم ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ کمپنیاں اپنے منافع کو ترجیح دیتی ہیں جبکہ بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جاتے۔ اس صورتحال میں ریگولیٹری اداروں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ واٹر کمپنیوں کے خلاف سخت اقدامات کریں اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے موثر حکمت عملی وضع کریں۔ کرس ویسٹن کے اس بیان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹیمز واٹر کو درپیش چیلنجز کتنے گمبھیر ہیں اور آنے والے دنوں میں کمپنی کے لیے اپنے صارفین اور ریگولیٹرز کو مطمئن کرنا انتہائی مشکل امر ثابت ہوگا۔