Pakistan
نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں سے متعلق نیا حکومتی فیصلہ جاری
وفاقی حکومت نے نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے طلبہ سے وصول کی جانے والی اضافی فیسوں کو ضابطے میں لانے کے لیے سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ اب کوئی بھی ادارہ منظوری کے بغیر اکیس لاکھ روپے سے زیادہ فیس وصول نہیں کر سکے گا۔
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک بھر کے نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے طلبہ اور ان کے والدین پر مالی بوجھ بڑھانے والے غیر قانونی فیس سسٹمز کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے نجی تعلیمی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ منظوری کے بغیر اکیس لاکھ روپے سے زائد فیس وصول نہیں کر سکتے۔ یہ بات قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بتائی گئی جہاں حکومتی نمائندوں نے واضح کیا کہ میڈیکل کی تعلیم کو کاروبار بننے سے روکنے اور عام آدمی کی پہنچ میں رکھنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
قومی اسمبلی کو دیے گئے ایک بیان میں مصطفیٰ کمال نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ حکومت اس مسئلے پر پوری طرح سنجیدہ ہے اور طلبہ کے حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ بہت سے والدین کی طرف سے یہ شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی جانب سے من مانی فیسیں اور دیگر مدات میں بھاری رقوم وصول کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے کے ہونہار طلبہ کے لیے ڈاکٹر بننے کا خواب پورا کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری باڈیز کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ تمام نجی میڈیکل اداروں کی کارکردگی اور فیس اسٹرکچر کی کڑی نگرانی کی جا سکے۔ اس فیصلے کے بعد اب کسی بھی میڈیکل کالج کے لیے یہ ممکن نہیں رہے گا کہ وہ ضابطہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اکیس لاکھ روپے سے زائد کی رقم فیس کی مد میں وصول کرے۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔