World
امریکہ کا فوجی طیارہ ماسکو میں لینڈ کر گیا، نایاب واقعہ
امریکہ کا ایک فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ لٹویا کے دارالحکومت ریگا سے پرواز کرکے ماسکو کے ونوکووو ایئرپورٹ پر اترا ہے۔ یہ واقعہ انتہائی غیر معمولی ہے اور اس پر بین الاقوامی سطح پر تجسس پایا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکہ کا ایک فوجی سی-سیونٹین (C-17) ٹرانسپورٹ طیارہ انتہائی غیر معمولی اور پراسرار طور پر روس کے دارالحکومت ماسکو کے ونوکووو ایئرپورٹ پر اتر گیا ہے۔ یہ واقعہ موجودہ عالمی سیاسی تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے کیونکہ واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق اس فوجی طیارے نے لٹویا کے دارالحکومت ریگا سے پرواز بھری تھی اور سیدھا ماسکو پہنچا۔ اس نوعیت کی پروازیں دونوں ممالک کے درمیان نایاب سمجھی جاتی ہیں اور عام حالات میں اس طرح کی نقل و حرکت انتہائی خفیہ یا مخصوص سفارتی اور تکنیکی مقاصد کے تحت کی جاتی ہے۔
ابھی تک امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون یا روسی حکام کی جانب سے اس طیارے کی ماسکو آمد کی کوئی باضابطہ اور تفصیلی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پروازیں کسی اعلیٰ سطحی سفارتی مشن، قیدیوں کے تبادلے کے معاملات یا پھر کسی تکنیکی ضرورت کا حصہ ہو سکتی ہیں، تاہم اس بات کی تردید یا تصدیق فوری طور پر نہیں کی جا سکی ہے۔ ماسکو کے ہوائی اڈے پر امریکی طیارے کی موجودگی نے دفاعی ماہرین اور مبصرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا پس پردہ کوئی خفیہ رابطہ کاری جاری ہے یا نہیں۔
اس واقعے کے بعد سے عالمی میڈیا میں چہ مگوئیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات پر گہری نظر رکھنے والے حلقے اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لٹویا جو کہ نیٹو کا رکن ملک ہے، وہاں سے اس طیارے کا روس کے لیے روانہ ہونا مزید کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کی طرف سے اس غیر معمولی لینڈنگ پر کوئی وضاحت سامنے آئے گی، جس سے اس پراسرار پرواز کے اصل مقاصد سے پردہ اٹھ سکے گا۔