Sports
قرضوں میں ڈوبے فٹ بال کلب کیسے خریدتے ہیں محمد صلاح جیسے کھلاڑی؟
فٹ بال کی دنیا میں یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ شدید مالی مشکلات اور قرضوں کا شکار کلبز بڑے کھلاڑیوں کی خطیر تنخواہیں کیسے برداشت کرتے ہیں۔ اس پوری صورتحال کے پیچھے جدید مالیاتی حکمت عملی، کمرشل معاہدے اور کلبوں کی کارپوریٹ منیجمنٹ کارفرما ہوتی ہے۔
فٹ بال کی دنیا میں یہ بات ہمیشہ سے حیران کن رہی ہے کہ بہت سے ایسے کلب جو کروڑوں روپے کے قرضوں تلے دبے ہوتے ہیں، وہ بھی محمد صلاح جیسے عالمی شہرت یافتہ اور مہنگے ترین کھلاڑیوں کو سائن کرنے کی صلاحیت کیسے رکھتے ہیں۔ بظاہر اگر کسی کلب کی بیلنس شیٹ سرخ رنگ میں نظر آ رہی ہو اور اس پر بھاری قرض کا بوجھ ہو، تو عام انسان یہی سوچے گا کہ وہ نئے کھلاڑیوں پر بڑی رقم خرچ نہیں کر سکتے۔ لیکن جدید فٹ بال صرف کھیل نہیں رہا بلکہ یہ ایک بہت بڑا عالمی کارپوریٹ بزنس بن چکا ہے جس کی معیشت انتہائی پیچیدہ اور گہری ہے۔
اس معمہ کو سمجھنے کے لیے کلبوں کے مالیاتی ڈھانچے کو دیکھنا ضروری ہے۔ زیادہ تر بڑے فٹ بال کلب اپنے روزمرہ کے اخراجات اور بڑے کھلاڑیوں کی ٹرانسفر فیس کو براہ راست کیش سے ادا کرنے کے بجائے طویل المدتی اقساط اور مالیاتی ری اسٹرکچرنگ پر چلاتے ہیں۔ جب کوئی کلب محمد صلاح جیسے کھلاڑی کو خریدتا ہے، تو اس کی ٹرانسفر فیس کئی سالوں پر پھیلا دی جاتی ہے جسے اکاؤنٹنگ کی زبان میں 'amortisation' کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایسے سپر سٹارز کی آمد سے کلب کی کمرشل آمدنی، ٹکٹوں کی فروخت، اور مرچنڈائزنگ میں ہوشربا اضافہ ہوتا ہے، جو بالآخر ان کے قرضوں کی ادائیگی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ٹیلی وژن براڈکاسٹنگ رائٹس اور اسپانسرشپ کے اربوں ڈالر کے معاہدے بھی اس عمل میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ جب کوئی کلب دنیا کے صف اول کے کھلاڑی کو اپنے ساتھ ملاتا ہے، تو بڑے برانڈز اس کے ساتھ الحاق کرنے کے لیے قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس طرح مارکیٹنگ اور گلوبل ریچ سے حاصل ہونے والا منافع اس مالی بوجھ کو ہلکا کر دیتا ہے جو کلب پر قرض کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھاری قرضوں کے باوجود یہ کلب بڑے کھلاڑیوں پر سرمایہ کاری جاری رکھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایک سپر سٹار کھلاڑی خود اپنی قیمت کو کئی گنا واپس لے کر آتا ہے۔