World
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تاریخ کی سب سے بڑی ویزا منسوخی کا منصوبہ
ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پالیسی کے تحت امریکہ میں تاریخ کی سب سے بڑی ویزا منسوخی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے لگ بھگ دو لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی منصب سنبھالنے سے قبل ہی تارکین وطن کے خلاف انتہائی سخت اقدامات کا عندیہ دے دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی ویزا منسوخی کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے جس کے تحت ملک میں موجود ہزاروں غیر ملکیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے داخلے کو روکنا اور پہلے سے موجود افراد کو واپس بھیجنا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس ممکنہ پالیسی سے تقریبا دو لاکھ افراد کے براہ راست متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ اقدام امریکہ آنے کے خواہشمند یا سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے لیے بھی ایک بڑا رکاوٹ بنے گا کیونکہ اس سے مزید لوگوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے کہ وہ امریکہ میں داخل ہو کر پناہ کی درخواست دائر کرنے سے گریز کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم امریکی تاریخ میں امیگریشن کے حوالے سے سب سے سخت فیصلوں میں شمار ہوگا۔
امریکہ کی مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں اور قانونی ماہرین اس پالیسی پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کی اجتماعی منسوخی سے نہ صرف معیشت اور معاشرتی ڈھانچے پر منفی اثرات پڑیں گے بلکہ انسانی ہمدردی کے تحت پناہ حاصل کرنے والے افراد کے بنیادی حقوق بھی پامال ہوں گے۔ دوسری جانب، ٹرمپ کے حامیوں کا اصرار ہے کہ ملکی سلامتی اور قانون کی بالادستی کے لیے یہ انتہائی ضروری اقدامات ہیں۔
آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے نفاذ کے بعد عدالتی چیلنجز اور قانونی لڑائیوں کا بھی قوی امکان ہے۔ تارکین وطن کے حقوق کے وکیل اس فیصلے کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ اس بڑے پیمانے پر ویزا منسوخی کے عمل کو روکا جا سکے۔ فی الحال متاثرہ افراد اور دنیا بھر کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ باضابطہ طور پر اس پالیسی کا نفاذ کب اور کس طرح کرتی ہے۔