Pakistan
جنرل عاصم منیر کا دورہ ایران اور پاک ایران مذاکرات کا مستقبل
پاکستانی آرمی چیف کے دورہ تہران کے دوران دوطرفہ تعلقات اور سرحدی امور پر بات چیت ہوئی ہے۔ تہران اور اسلام آباد کے درمیان رابطے بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ امریکی دباؤ کے باعث ایران کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں کچھ تحفظات پائے جاتے ہیں۔
اسلام آباد اور تہران کے درمیان حالیہ سفارتی اور عسکری رابطوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ پاکستانی عسکری قیادت کی طرف سے خطے میں امن و امان کے قیام اور دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے دورہ تہران کا مقصد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سکیورٹی خدشات کو دور کرنا اور سرحدی تعاون کو بہتر بنانا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران تہران میں مثبت بات چیت ہوئی ہے جس سے دونوں ممالک کے مابین غلط فہمیاں کم کرنے میں مدد ملے گی۔
تاہم، اس تمام پیش رفت کے باوجود مبصرین کا ماننا ہے کہ ایران کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں واشنگٹن کے حوالے سے شدید تحفظات تاحال برقرار ہیں۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان تاریخی کشیدگی اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے باعث ایرانی عسکری حکام انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایران کے نزدیک، پاکستان کے امریکہ کے ساتھ روایتی اور دفاعی تعلقات دونوں برادر ممالک کے قریبی تعاون کی راہ میں ایک فکری رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں ایرانی عسکری قیادت ہر قسم کے مذاکرات اور سکیورٹی معاہدوں کو انتہائی باریک بینی سے جانچ رہی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک نازک توازن کا تقاضا کرتی ہے۔ اسلام آباد جہاں ایک طرف اپنے دیرینہ دوست اور اہم ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہتا، وہیں دوسری طرف عالمی جیو پولیٹیکل حقائق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی عسکری قیادت کی کوشش ہے کہ تہران کو یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ اسلام آباد کی پالیسی خطے میں کشیدگی پھیلانے کے بجائے استحکام اور اقتصادی رابطوں کو فروغ دینے پر مبنی ہے۔ بارڈر سکیورٹی اور اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے بھی دونوں اطراف سے تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا جنرل عاصم منیر کی سفارتی اور عسکری مہارت تہران کے شکوک و شبہات کو ختم کرنے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے۔ اگر پاکستان ایرانی عسکری قیادت کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ دوطرفہ مذاکرات خطے کے تمام ممالک کے وسیع تر مفاد میں ہیں، تو اس سے نہ صرف پاک ایران سرحد پر سکیورٹی بہتر ہوگی بلکہ پورے خطے میں امن کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔