Pakistan
بیرون ملک مقیم پاکستانی ریٹائرڈ افسران کی غیر ملکی کرنسی میں پینشن
پاکستان کے 33 ریٹائرڈ اعلیٰ افسران بیرون ملک مقیم رہتے ہوئے غیر ملکی کرنسی میں اپنی پینشن وصول کر رہے ہیں۔ اس اہم انکشاف کے بعد سرکاری امور اور مالیاتی شفافیت کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ایک تازہ ترین اور اہم انکشاف کے مطابق پاکستان کے 33 ریٹائرڈ اعلیٰ افسران ایسے ہیں جو ملک سے باہر بیرون ملک مقیم ہیں اور وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ملکی خزانے سے غیر ملکی کرنسی میں پینشن وصول کر رہے ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت سرکاری حلقوں اور عوام میں زیر بحث ہے کیونکہ اس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور پینشن کے اخراجات پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تمام افسران مختلف اہم محکموں سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور اب طویل عرصے سے بیرون ملک سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں۔
حالیہ مالیاتی رپورٹس اور اعداد و شمار کے مطابق حکومت کو بیرون ملک مقیم ان افسران کی پینشن کی ادائیگی کے لیے غیر ملکی کرنسی کا انتظام کرنا پڑتا ہے، جو کہ ملکی معیشت کے موجودہ حالات میں ایک قابل ذکر مالی بوجھ سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے مالی معاملات کو مزید شفاف بنانے اور قومی خزانے کی بچت کے لیے جامع پالیسی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ پینشن کی ادائیگیوں کے طریقہ کار کو بہتر بنایا جا سکے۔
دوسری جانب، متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے اس معاملے پر مزید تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ آیا یہ ادائیگیاں قوانین کے عین مطابق ہیں یا اس میں کسی قسم کی نظرثانی کی گنجائش موجود ہے۔ عوامی سطح پر بھی اس خبر پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں ایک طبقہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ سرکاری فنڈز کے استعمال میں کڑی نگرانی ہونی چاہیے تاکہ ملکی خزانے پر اضافی بوجھ سے بچا جا سکے، جبکہ حکام کی جانب سے اس حوالے سے مزید لائحہ عمل جلد سامنے آنے کا امکان ہے۔