Business
انوڈیا کے نتائج سے قبل چپ انڈسٹری میں مندی، انٹیل اور اے ایم ڈی کے شیئرز گر گئے
انوڈیا کے مالیاتی نتائج کے اعلان سے چند روز قبل عالمی سیمی کنڈکٹر اور چپ ساز کمپنیوں کے شیئرز میں مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے پوزیشنز کم کرنے کے باعث انٹیل کے حصص 5 فیصد اور اے ایم ڈی کے شیئرز 4 فیصد تک گر گئے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سیمی کنڈکٹر اور چپ بنانے والی بڑی کمپنیوں کے حصص میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ معروف کمپنی انوڈیا کے متوقع مالیاتی نتائج ہیں۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے نتائج سے قبل اپنے رسک کو کم کرنے کے لیے چپ انڈسٹری کے شیئرز میں فروخت کا دباؤ بڑھایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی بڑی کمپنیوں کے مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
تجارت اور مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، اس مجموعی گراوٹ میں چپ ساز کمپنی انٹیل کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اس کے حصص میں تقریباً پانچ فیصد تک کی کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائسز یعنی اے ایم ڈی کے شیئرز بھی چار فیصد نیچے آ گئے۔ تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی کے شیئرز میں بھی تین فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کار فی الحال چپ سیکٹر میں مزید سرمائے کاری سے گریز کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ انوڈیا نے حالیہ چند سہ ماہیوں کے دوران اپنے فی شیئر آمدنی کے تخمینوں کو مسلسل مات دی ہے اور اس بار بھی مارکیٹ کو اس سے بڑے پیمانے پر مثبت نتائج کی توقع ہے۔ تاہم، موجودہ بلندی پر موجود مارکیٹ میں معمولی سی غیر یقینی صورتحال بھی پرافٹ بکنگ کا باعث بن جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز انوڈیا کی جانب سے مالیاتی رپورٹ جاری کیے جانے کے بعد ہی سیمی کنڈکٹر سیکٹر کی آئندہ سمت کا واضح تعین ہو سکے گا۔
اس صورتحال نے عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے کیونکہ انوڈیا کو مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر انوڈیا کے نتائج توقعات سے بہتر ہوئے تو نہ صرف اس کے اپنے حصص میں دوبارہ تیزی آئے گی بلکہ انٹیل اور اے ایم ڈی جیسی دیگر مسابقتی کمپنیوں کے شیئرز بھی دوبارہ بحالی کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں۔ تاہم فی الحال سرمایہ کار انتہائی محتاط حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔