LIVE
Loading Breaking News...

فیکس مشین کی تاریخ اور اس کا 1843 کا اسکاٹ لینڈ سے تعلق

News Image
فیکس مشین کو اگرچہ عام طور پر بیسویں صدی کی ایجاد سمجھا جاتا ہے لیکن اس کا بنیادی تصور 1843 میں ایک اسکاٹ لینڈ کے موجد نے پیش کیا تھا۔ اس ٹیکنالوجی نے طویل ارتقائی مراحل طے کرنے کے بعد دفاتر میں دستاویزات کی ترسیل کا ایک لازمی ذریعہ روپ اختیار کیا۔
فیکس مشین کا نام آتے ہی عام طور پر بیسویں صدی کے اواخر کا دور ذہن میں آتا ہے جب دفاتر میں معاہدے، فارم اور دیگر دستاویزات فون لائنز کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کے لیے اس کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا تھا۔ تاہم، فیکس مشین کے پیچھے چھپا بنیادی خیال اس دور سے بہت پرانا ہے اور اس کی جڑیں انیسویں صدی کے وسط میں پیوست ہیں۔ تاریخی حقائق کے مطابق ایک اسکاٹ لینڈ کے موجد نے 1843 میں تصویر کی ترسیل کرنے والی ایک مشینی ڈیوائس کا پیٹنٹ حاصل کیا تھا۔ اگرچہ اس ابتدائی مشین کا ڈھانچہ اور کام کرنے کا طریقہ کار جدید دور کی فیکس مشینوں سے کافی مختلف تھا، لیکن اس نے طویل فاصلے تک بصری مواد یا تحریر بھیجنے کی بنیاد رکھ دی تھی۔ اس وقت سائنسی دنیا میں بجلی اور ٹیلی گراف کے نئے تجربات ہو رہے تھے اور اس ایجاد نے آنے والے وقتوں میں مواصلات کے میدان میں انقلاب برپا کرنے کی راہ ہموار کی۔ ایک صدی سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد یہی ابتدائی تصور جدید ٹیکنالوجی اور ٹیلی فون لائنز کے ساتھ ضم ہو کر جدید دفتری فیکس مشین کی شکل اختیار کر گیا۔ بیسویں صدی کے دوران جب کارپوریٹ سیکتر کو تیز رفتار اور محفوظ طریقے سے کاغذات کی ترسیل کی ضرورت محسوس ہوئی تو فیکس مشین دنیا بھر کے دفاتر کا ایک ناگزیر حصہ بن گئی۔ آج کے ڈیجیٹل اور انٹرنیٹ کے دور میں اگرچہ ای میلز اور کلاؤڈ سروسز نے فیکس مشین کی اہمیت کو کم کر دیا ہے، لیکن اس کی تاریخی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ایک اسکاٹ لینڈ کے موجد کی 1843 کی وہ ابتدائی کوشش آج اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ جدید دنیا کی بڑی ایجادات کے پیچھے برسوں کی محنت اور پرانے خیالات کارفرما ہوتے ہیں۔