Business
چین میں تیل کی طلب 2025 میں عروج پر: سینوپیک چیئرمین کا بیان
چین میں تیل کی طلب میں متوقع عروج صاف توانائی کی طرف منتقلی اور عالمی توانائی کی مارکیٹ میں ایک اہم موڑ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس تبدیلی کے عالمی سطح پر تیل کی تجارت اور توانائی کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
چین کے معروف توانائی ادارے سینوپیک کے چیئرمین نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ملک میں تیل کی طلب رواں سال یا زیادہ سے زیادہ 2025 تک اپنے عروج کو پہنچ کر جمود کا شکار ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان کا مقصد روایتی ایندھن سے ہٹ کر صاف اور ماحول دوست توانائی کی طرف تیزی سے بڑھنا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کی توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ چین دنیا کی سب سے بڑی تیل کی درآمد کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے، اس لیے وہاں طلب میں کمی یا استحکام کے عالمی سطح پر قیمتوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی وجہ سے چین میں تیل کے استعمال کے نمونے تیزی سے بدل رہے ہیں۔ توانائی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر فوسل فیول کا دور آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے اور مستقبل صاف توانائی کا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کو اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے اور طویل المدتی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ عالمی منڈی میں سرمایہ کار بھی اب اس نئی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی توجہ روایتی تیل اور گیس کے پراجیکٹس سے ہٹا کر گرین انرجی کی طرف مبذول کر رہے ہیں۔ سینوپیک کے اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ کیا عالمی سطح پر تیل کی طلب توقع سے زیادہ تیزی سے زوال پذیر ہو رہی ہے یا نہیں۔ آنے والے برسوں میں چین کی پالیسیاں اس بات کا تعین کریں گی کہ عالمی توانائی کا منظرنامہ کس سمت میں آگے بڑھتا ہے۔