LIVE
Loading Breaking News...

سুপার মাইক্রো حصص میں گراوٹ، تائیوان میں اے آئی سرور اسکینڈل

News Image
تائیوان میں جعلی دستاویزات کے ذریعے چین کو مصنوعی ذہانت کے سرورز برآمد کرنے کے الزام میں مقدمہ درج ہونے کے بعد سپر মাইক্রো کے حصص میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔ اس واقعے کے بعد تکنیکی شعبے میں ہلچل مچ گئی ہے اور دیگر بڑی کمپنیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب تائیوان کے حکام نے جعلی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے چین کو جدید ترین مصنوعی ذہانت کے سرورز غیر قانونی طور پر برآمد کرنے کے الزام میں نو افراد کو باضابطہ طور پر نامزد کیا۔ اس کارروائی کے بعد معروف ٹیکنالوجی کمپنی سپر مائکرو کمپیوٹر (Super Micro Computer) کے حصص میں مارکیٹ کے دوران سات فیصد تک کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ اس قانونی کارروائی میں کمپنی کے مقامی یونٹ کے دو ملازمین بھی شامل ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حساس ٹیکنالوجی کو غلط طریقوں سے دوسرے ملک منتقل کیا۔ اس واقعے کے اثرات صرف سپر مائکرو تک محدود نہیں رہے بلکہ صنعت کی دوسری بڑی کمپنیوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ معروف امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ڈیل (Dell) کے حصص میں بھی دو فیصد تک کی کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کاروں میں یہ تشویش بڑھ گئی ہے کہ عالمی سطح پر اے آئی ہارڈویئر کی تجارت پر حکومتی ضابطے اور سخت کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ تکنیکی تجارت کے حوالے سے امریکی اور اتحادی ممالک کی پالیسیاں پہلے ہی انتہائی سخت ہیں اور اس طرح کے واقعات کمپنیوں کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔ سپر مائکرو کے لیے یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کمپنی پہلے ہی مارکیٹ میں اپنی ساکھ اور مالیاتی شفافیت کے حوالے سے مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں استعمال ہونے والے یہ طاقتور سرورز اس وقت عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کی برآمدات پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔ تائیوان کے حکام اس بات کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں کہ اس غیر قانونی نیٹ ورک میں کون کون اور شامل تھا اور کتنے یونٹس کامیابی سے چین منتقل کیے گئے۔ اس پورے معاملے کے بعد کارپوریٹ سیکٹر میں یہ بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سپلائی چین اور برآمدی ضابطوں پر مزید سخت کنٹرول رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر اس طرح کے مزید انکشافات ہوتے ہیں تو عالمی سطح پر اے آئی ہارڈویئر کی سپلائی چین شدید متاثر ہو سکتی ہے جس سے آنے والے دنوں میں صنعت کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کار اس معاملے کی اگلی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کے آئندہ رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔