World
ٹک ٹاکر کے خلاف سمارٹ گلاسز سے خفیہ فلم بندی پر پولیس انکوائری
برطانیہ میں ایک معروف مواد تخلیق کار اور ٹک ٹاکر کے خلاف خفیہ سمارٹ چشموں سے خواتین کی ویڈیوز بنانے اور نسل پرستانہ تبصرے کرنے پر پولیس تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ملزم نے دکان پر کام کرنے والی سکھ خاتون اور دیگر نوجوان خواتین کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھیں۔
برطانیہ میں ایک معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ٹک ٹاکر کو اس وقت شدید قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب اس کی جانب سے سمارٹ چشموں کا استعمال کرتے ہوئے خواتین کی خفیہ طور پر ویڈیوز بنانے کا معاملہ سامنے آیا۔ اس مواد تخلیق کار نے اپنی ویڈیوز میں نوجوان خواتین اور ایک سکھ دکان کے کارکن کو نشانہ بنایا، جہاں وہ مبینہ طور پر نسل پرستانہ نظریات اور سازشی خیالات کا پرچار کرتا دکھائی دیا۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور صارفین نے اس عمل کو خواتین کی نجی زندگی میں مداخلت اور ہراسانی قرار دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ موصول ہونے والی شکایات کی روشنی میں معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی جیسے کہ سمارٹ چشموں کا اس طرح کا استعمال اور لوگوں کی رضامندی کے بغیر ویڈیوز بنانا جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق اگر ملزم اس معاملے میں مجرم پایا گیا تو اسے سخت قانونی کارروائی اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر جدید سمارٹ گیجٹس کے اخلاقی استعمال اور سوشل میڈیا پر پرائیویسی کے تحفظ کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے بعد حکام کی جانب سے ایسے آلات کے ضابطہ کار کو سخت کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔