LIVE
Loading Breaking News...

ڈیٹا ایمپائر: معلومات کی معیشت اور ڈیجیٹل سرینگر پر کتاب

News Image
روپیکا رِسام کی نئی کتاب 'ڈیٹا ایمپائر' میسوپوٹیمیا کے دور سے لے کر جدید دور کی نگرانی کی ٹیکنالوجی تک انسانی ریکارڈ رکھنے کی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ کتاب انفارمیشن اکانومی کے عروج اور انسانی زندگی پر ڈیٹا کے گہرے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیتی ہے۔
معلومات کی معیشت آج کے دور میں دنیا کی سب سے بڑی اور غالب کرنسی بن چکی ہے۔ روپیکا رِسام کی تصنیف کردہ نئی کتاب 'ڈیٹا ایمپائر' قارئین کو انسانی تاریخ کے اس سفر پر لے جاتی ہے جہاں سے ڈیٹا کا آغاز ہوا۔ یہ کتاب میسوپوٹیمیا کے ابتدائی زرعی ریکارڈ سے لے کر آج کے دور کی جدید ترین نگرانی کی ٹیکنالوجی تک انسانی تاریخ کے تمام اہم موڑ کا احاطہ کرتی ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ کس طرح انسان نے ہمیشہ سے اپنے اردگرد کی معلومات کو محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب کی بنیاد مصنفہ کے ساتھ پیش آنے والے ایک ذاتی واقعے پر رکھی گئی ہے، جس نے انہیں اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اس بات کا گہرائی سے مطالعہ کریں کہ ہمارے بارے میں کون سا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے اور اسے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ جدید دور میں، جب ہر انسان ڈیجیٹل دنیا سے جڑا ہوا ہے، ڈیٹا کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ کارپوریشنز اور حکومتیں اس معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں، جو کہ براہ راست عام آدمی کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ رِسام اپنی اس کاوش میں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ڈیٹا کا یہ حصول صرف ایک تکنیکی عمل نہیں ہے بلکہ اس کے گہرے سماجی، سیاسی اور معاشی اثرات ہیں۔ قدیم زمانے کے پتھروں اور مٹی کی تختیوں پر کھدائی سے لے کر آج کے کلاؤڈ سرورز تک، معلومات کو محفوظ کرنے کے ذرائع تو بدلے ہیں لیکن اس کی بنیادی اہمیت وہی ہے۔ 'ڈیٹا ایمپائر' ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اس انفارمیشن اکانومی میں ہمارا ذاتی ڈیٹا کس طرح ایک تجارتی پروڈکٹ بن چکا ہے اور اس کے طویل مدتی نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔