LIVE
Loading Breaking News...

ڈیجیٹل موت اور آپ کے ڈیٹا کا مستقبل - لاک اینڈ کوڈ

News Image
لاک اینڈ کوڈ پوڈ کاسٹ کے تازہ ترین ایپی سوڈ میں ڈیجیٹل موت اور مرنے کے بعد انسان کے کوائف کے مستقبل پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں انفرادی معلومات اور پروفائلز کا انتظام کمپنیوں اور لواحقین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں انسان کی زندگی کے ساتھ ساتھ اس کا ڈیجیٹل وجود بھی انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ حال ہی میں مشہور پوڈ کاسٹ 'لاک اینڈ کوڈ' کے ایک نئے ایپی سوڈ میں اس اہم موضوع پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ انسان تو ایک نہ ایک دن فانی دنیا سے کوچ کر جاتا ہے لیکن اس کا چھوڑا ہوا ڈیٹا انٹرنیٹ پر ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں کسی فرد کی موت کے بعد اس کے اکاؤنٹس، تصاویر، پیغامات اور دیگر کوائف کا کیا بنتا ہے، یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر آج کے دور میں سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں ایسا کوئی تصور نہیں تھا کیونکہ تمام یادیں اور معلومات کاغذی یا جسمانی شکل میں ہوتی تھیں جنہیں سنبھالنا یا تلف کرنا آسان ہوتا تھا۔ تاہم، اب دنیا بھر کے کروڑوں صارفین کا ڈیٹا مختلف سرورز اور کلاؤڈ پلیٹ فارمز پر محفوظ ہے جو ان کی موت کے بعد بھی ڈیجیٹل فضا میں موجود رہتا ہے۔ اس صورتحال نے کئی تکنیکی، اخلاقی اور قانونی سوالات کو جنم دیا ہے جن کا حل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ صارف کی وفات کے بعد اس کے پروفائل کو کس طرح سنبھالا جائے۔ کچھ پلیٹ فارمز نے 'ممی مورئلائزڈ اکاؤنٹس' (Memorialized Accounts) کی سہولت متعارف کرائی ہے جس کے ذریعے قریبی رشتے دار فوت شدہ شخص کے اکاؤنٹ کو ایک یادگار کے طور پر برقرار رکھ سکتے ہیں یا پھر اسے مستقل طور پر ڈیلیٹ کرنے کی درخواست دے سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، بہت سا ایسا ڈیٹا ہوتا ہے جو پرائیویسی اور سکیورٹی کے پیچیدہ مسائل کی وجہ سے غیر محفوظ رہتا ہے یا کمپنیوں کے پاس طویل عرصے تک محفوظ رہتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ عام صارفین کو اپنی زندگی میں ہی اپنے ڈیجیٹل اثاثوں اور اکاؤنٹس کے حوالے سے واضح ہدایات دینی چاہئیں تاکہ ان کی وفات کے بعد ان کے پیاروں کو کسی قسم کی قانونی یا تکنیکی مشکلات کا سامنا نہ کرناپڑے۔ ڈیجیٹل موت کے اس نئے اور منفرد رجحان نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آن لائن دنیا میں ہمارا چھوڑا ہوا نشان ہماری اصلی زندگی جتنا ہی اہم اور طویل المدتی ہو سکتا ہے۔