LIVE
Loading Breaking News...

لِنکڈ اِن پروفائلز میں اے آئی کی مہارتیں اور تاریخی ردوبدل کی تحقیق

News Image
امریکہ میں کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ لاکھوں ملازمین نے ماضی کی ملازمتوں میں اے آئی کی مہارتیں شامل کرنے کے لیے اپنی لِنکڈ اِن پروفائلز کو ریٹرو ایکٹیو انداز میں تبدیل کیا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کے اجراء کے بعد سے ایسی ترامیم میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ ہی ملازمین کے رویوں میں بھی دلچسپ تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں۔ ایک نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں لاکھوں افراد نے اپنی پرانی اور ماضی کی نوکریوں کے تجربات میں مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتوں کو ریٹرو ایکٹیو انداز میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس عمل کے دوران ورکرز نے اپنی لِنکڈ اِن پروفائلز کی تاریخ کو اس طرح دوبارہ لکھا ہے کہ ان کا ماضی کا دورانیہ بھی موجودہ دور کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس نظر آئے۔ اس تحقیقی مقالے کے لیے امریکہ بھر سے تقریباً دو کروڑ نوے لاکھ لِنکڈ اِن پروفائلز کا گہرائی سے تجزیہ کیا گیا۔ اس جامع مطالعے میں یہ حیرت انگیز بات سامنے آئی کہ تقریباً پانچویں حصے کے قریب صارفین نے ایسی ملازمتوں میں بھی ترامیم کیں جنہیں وہ پہلے ہی چھوڑ چکے تھے۔ خاص طور پر جب سے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کا اجراء عمل میں آیا ہے، اس کے بعد سے پروفائلز میں اے آئی سے جڑی مہارتوں کے اضافے کی شرح میں چھ گنا سے بھی زیادہ تیزی آئی ہے، جو کہ ایک غیر معمولی رجحان ہے۔ ماہرین اور محققین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تبدیلیوں کی وجہ سے اب تاریخی اعداد و شمار اور کیریئر کے ریکارڈ میں حقیقت اور مبالغہ آرائی کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ محققین کا تخمینہ ہے کہ آنے والے برسوں بالخصوص 2026 تک اس نوعیت کے رجحانات کی وجہ سے ماضی کے ڈیجیٹل ریکارڈ میں مصنوعی ذہانت کی مہارتوں کا تناسب حقیقت سے کہیں زیادہ بڑھ چڑھ کر دکھائی دے گا۔ یہ صورتحال جاب مارکیٹ اور ایچ آر پروفیشنلز کے لیے بھی ایک نیا چیلنج پیدا کر رہی ہے جو امیدواروں کی سابقہ قابلیت کا درست اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس رجحان کے پس منظر میں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ جدید جاب مارکیٹ میں ملازمت کے حصول کے لیے مصنوعی ذہانت کی مہارت کو اب ایک لازمی اور کلیدی عنصر سمجھا جانے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ورکرز اپنے ماضی کو بھی موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ مستقبل کی مسابقت میں پیچھے نہ رہ جائیں۔ تاہم، اس طرح کی تبدیلیوں کے نفاذ سے پروفیشنل نیٹ ورکس کی ساکھ اور ڈیٹا کی درستگی پر بھی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں جن پر ماہرینِ تعلیم اور صنعت کے رہنماؤں کی طرف سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔