Technology
امریکی اسکولوں پر بگ ٹیک کا قبضہ، نئی کتاب کے حیرت انگیز انکشافات
ایک نئی آنے والی کتاب کے اقتباس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کس طرح بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے امریکی سرکاری اسکولوں میں اپنے قدم جمائے ہیں۔ اس صورتحال نے والدین اور ماہرین تعلیم کے درمیان نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔
نئی آنے والی کتاب 'کوڈنگ کڈز: بگ ٹیکس بیٹل ٹو ریمیک پبلک اسکولز' کے ایک اقتباس میں اس بات کا گہرا جائزہ لیا گیا ہے کہ کس طرح بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے آہستہ آہستہ امریکی سرکاری اسکولوں کے نظام پر اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔ نیویارک ٹائمز سے تعلق رکھنے والی نتاشا سنگر نے اس کتاب میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ تعلیمی اداروں میں کارپوریٹ مداخلت کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ مصنفہ کے مطابق اگر کوئی روایتی تیل کی کمپنی جیسے کہ ایکسن موبل تعلیمی نصاب یا تدریسی طریقوں میں براہ راست عمل دخل کرتی تو والدین کی طرف سے شدید ردعمل اور اعتراض سامنے آتا، لیکن ٹیکنالوجی کے معاملے میں یہ خاموشی زیادہ تشویشناک ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران ڈیجیٹل سیکھنے کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے لاکھوں اسکول کے بچوں کو اپنے آلات، سافٹ ویئر اور آن لائن پلیٹ فارمز سے لیس کیا ہے۔ بظاہر یہ اقدامات تعلیمی معیار کو بلند کرنے اور بچوں کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں، تاہم اس کے پس پردہ کارپوریٹ مفادات چھپے ہوتے ہیں۔ ان کمپنیوں نے اسکولوں کو اپنے ڈیجیٹل پروڈکٹس کی مارکیٹ کے طور پر استعمال کیا ہے، جس کی وجہ سے طلباء کی ذاتی معلومات اور ڈیٹا کی سکیورٹی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے، لیکن اس کی قیمت بچوں کی ذہنی نشوونما اور نجی زندگی کے تحفظ کی صورت میں نہیں چکانی چاہیے۔ کتاب میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ والدین اور اساتذہ کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ کس طرح کارپوریٹ ادارے تعلیمی پالیسیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ اگر بروقت اس صورتحال کا نوٹس نہ لیا گیا تو آنے والے وقتوں میں تعلیمی ادارے مکمل طور پر تجارتی مقاصد کے تابع ہو جائیں گے، جو معاشرے کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔