LIVE
Loading Breaking News...

تیز رفتاری کے خطرات اور اے اے اے کی رپورٹ

News Image
اے اے اے فاؤنڈیشن فار ٹریفک سیفٹی کی نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ بہت سے ڈرائیورز خطرات کے باوجود تیز رفتاری کو معمول سمجھنے لگے ہیں۔ اگرچہ اکثر ڈرائیورز رفتار کی حد کو مناسب مانتے ہیں، لیکن کئی افراد اس سے دس میل فی گھنٹہ زیادہ رفتار سے گاڑی چلانا درست سمجھتے ہیں۔
نیکسو را نیوز اردو کی رپورٹ کے مطابق اے اے اے فاؤنڈیشن فار ٹریفک سیفٹی (AAAFTS) کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈرائیورز میں تیز رفتاری کے خطرات سے آگاہی کے باوجود یہ عمل اب تیزی سے معمول بنتا جا رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق روڈ سیفٹی کے حوالے سے ڈرائیورز کا رویہ ایک تضاد کا شکار نظر آتا ہے جہاں وہ زبانی طور پر قوانین کی پاسداری کو اہم سمجھتے ہیں لیکن عملی طور پر خلاف ورزی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر ڈرائیورز اس بات سے تو متفق ہیں کہ سڑکوں پر لگائی گئی رفتار کی حدود (اسپیڈ لیمٹس) بالکل درست اور مسافروں کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں، تاہم اس کے باوجود وہ ان حدود کی پاسداری کرنے سے گریزاں ہیں۔ سروے میں شامل کئی افراد نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ مقررہ حد سے دس میل فی گھنٹہ زیادہ رفتار سے گاڑی چلانے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے، اور وہ اسے خطرناک یا قابلِ سزا جرم نہیں سمجھتے۔ ماہرین ٹریفک کا کہنا ہے کہ تیز رفتاری سڑکوں پر ہونے والے جان لیوا حادثات کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ جب ڈرائیورز اس عمل کو نارمل یا معمولی سمجھنے لگتے ہیں تو سڑک پر موجود دوسرے معصوم شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ تیز رفتاری نہ صرف گاڑی پر قابو پانے کی صلاحیت کو کم کرتی ہے بلکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بریک لگانے کے فاصلے کو بھی طویل کر دیتی ہے۔ اے اے اے فاؤنڈیشن نے متعلقہ حکام اور ڈرائیورز پر زور دیا ہے کہ وہ روڈ سیفٹی کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کریں اور آگہی مہمات چلائیں تاکہ اس رویے کو بدلا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک ڈرائیورز اپنی اس سوچ میں تبدیلی نہیں لاتے کہ تھوڑی سی تیز رفتاری سے کچھ نہیں ہوتا، اس وقت تک سڑکوں پر حادثات کی شرح میں کمی لانا انتہائی مشکل امر رہے گا۔