World
یوکرین کا یوم آزادی، روس کے خلاف دفاع اور برطانوی حمایت کا اعلان
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یوم آزادی پر اپنے خطاب میں واضح کیا ہے کہ ملک امن چاہتا ہے لیکن کسی بھی قیمت پر ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ اس موقع پر برطانوی وزیراعظم سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے یوکرین کی خودمختاری کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
یوکرین نے جنگ کے ماحول اور روس کی مسلسل دھمکیوں کے درمیان انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ اپنا یوم آزادی منایا۔ اس موقع پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک انتہائی پُرعزم اور سخت خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین امن کا خواہاں ہے، لیکن وہ کسی بھی قیمت پر روس کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گا اور نہ ہی ہتھیار ڈالے گا۔ صدر زیلنسکی نے ملک کی خودمختاری اور آزادی کے دفاع کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کیا اور یوکرینی عوام کی بہادری کو سراہا۔ دوسری جانب، روس کی جانب سے جاری کردہ دھمکیوں اور فضائی حملوں کے خطرات کے باوجود، برطانیہ سمیت دنیا کے کئی اہم ممالک کے رہنماؤں نے یوکرین کے لیے اپنی یکجہتی اور حمایت کا کھل کر اظہار کیا۔ برطانوی حکومت نے اس موقع پر یوکرین کے لیے مزید امداد اور طویل المدتی تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل وقت میں یوکرین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے اس حمایت کو روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کے مورال کو بلند کرنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین کا یہ یوم آزادی اس بات کا واضح پیغام ہے کہ تمام تر مشکلات اور تباہی کے باوجود یوکرین کی عوام اپنی آزادی اور شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ جنگ کے طول پکڑنے کے باوجود ملک کے اندر دفاعی جذبے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے، اور یوکرینی قیادت عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔