LIVE
Loading Breaking News...

پاک-ایران گیس پائپ لائن منصوبہ: حکومت کی جانب سے نئی خصوصی کمیٹی قائم

News Image
وفاقی حکومت نے ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے میں حائل قانونی رکاوٹوں اور ثالثی کے تعطل کو ختم کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا ہے۔ یہ کمیٹی منصوبے کی بحالی اور درپیش چیلنجز کے حل کے لیے ٹھوس سفارشات مرتب کرے گی۔
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو درپیش قانونی مشکلات اور بین الاقوامی ثالثی کے تعطل سے نکالنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد برسوں سے التوا کا شکار اس اہم توانائی منصوبے کو دوبارہ فعال بنانا ہے تاکہ ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ پارلیمنٹ کے ایوان بالا اور قومی اسمبلی میں حکومتی عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم نے اس ضمن میں ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ منصوبے کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ اس کمیٹی میں توانائی، خارجہ امور اور قانونی ماہرین شامل ہوں گے جو ایران کے ساتھ ہونے والے گیس سپلائی کے معاہدے کی شرائط کا دوبارہ جائزہ لیں گے۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی کا بنیادی مقصد ثالثی کے عمل کو خوش اسلوبی سے نمٹانا ہے تاکہ پاکستان کو کسی قسم کے بڑے جرمانوں یا بین الاقوامی دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور توانائی کے اس منصوبے کی افادیت کو برقرار رکھتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے حل تلاش کیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک-ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کی معاشی ترقی اور توانائی کی قلت پر قابو پانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ماضی میں بین الاقوامی پابندیوں اور مالیاتی رکاوٹوں کی وجہ سے اس منصوبے پر کام سست روی کا شکار رہا، تاہم موجودہ حکومت اب اسے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا چاہتی ہے۔ کمیٹی اپنی رپورٹ میں مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کرے گی جس کے بعد منصوبے پر عملی کام کی بحالی کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور مقامی گیس کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ ایران سے سستی گیس کی فراہمی ملک کی صنعتوں اور بجلی کے کارخانوں کو چلانے کے لیے ناگزیر ہے۔ اب تمام تر نظریں اس کمیٹی کی سفارشات پر ہیں کہ آیا یہ کمیٹی سفارتی اور قانونی مشکلات کو حل کرنے میں کامیاب ہو پائے گی یا نہیں۔