LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ میں شدت

News Image
کینیڈا نے امریکی تجارتی پالیسیوں کے جواب میں مختلف امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد امریکی معیشت پر دباؤ ڈالنا اور کینیڈین مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
کینیڈا نے امریکہ کی جانب سے عائد کردہ تجارتی پابندیوں اور سخت موقف کے جواب میں ایک جامع جوابی پیکج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت امریکی دھاتوں، مختلف غذائی اجناس اور موٹر سائیکلز پر بھاری ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں پیدا ہونے والا یہ بحران اب ایک مکمل تجارتی جنگ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی معیشت کے تحفظ اور امریکی جارحانہ تجارتی حکمت عملی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ضروری تھا۔ امریکی صدر کی جانب سے کینیڈین قیادت کو 'فال ان لائن' یعنی ہدایات ماننے کے جو احکامات دیے گئے تھے، اس کے بعد سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات میں شدید تناؤ پایا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کینیڈا کی جانب سے منتخب کردہ اشیاء پر ٹیرف کا اطلاق ایک گہری سوچ بچار کا نتیجہ ہے جس کا مقصد امریکی معیشت کے اہم شعبوں کو براہ راست متاثر کرنا ہے۔ خاص طور پر دھات سازی اور موٹر سائیکل انڈسٹری کو ہدف بنا کر کینیڈا نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے جوابی کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ تجارتی تناؤ محض ایک دو طرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات عالمی سپلائی چین پر بھی مرتب ہو رہے ہیں جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اب دونوں اطراف سے سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکہ کی جانب سے کینیڈا پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی جہاں ناکامی سے دوچار ہوتی نظر آتی ہے، وہیں کینیڈا نے بھی اپنے دفاع کے لیے تمام ممکنہ راستے کھلے رکھے ہیں۔ مستقبل میں اس تجارتی تنازع کا حل کیا نکلے گا، یہ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر دونوں ممالک نے جلد کوئی درمیانی راستہ تلاش نہ کیا تو اس سے شمالی امریکہ کی مشترکہ معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کینیڈا کی جانب سے اٹھائے گئے یہ اقدامات جہاں ایک طرف اپنی صنعتوں کے تحفظ کے لیے ہیں، وہیں یہ امریکہ کے لیے ایک سخت انتباہ بھی ہیں کہ تجارتی جنگ میں کوئی بھی فریق فاتح نہیں رہتا۔