Pakistan
راولپنڈی میں بارش کے بعد سڑکیں خطرناک اور ٹریفک متاثر
راولپنڈی میں حالیہ بارش کے بعد شہر کی اہم سڑکیں شہریوں کے لیے انتہائی خطرناک اور پھسلن کا شکار ہو گئی ہیں۔ محکمہ موسمیات نے پاکستان بھر میں 27 اگست سے مون سون کے ایک اور نئے سلسلے کے داخل ہونے کی پیشگوئی کی ہے۔
راولپنڈی میں حالیہ اور مسلسل بارشوں کے باعث شہر کی اہم سڑکیں اور شاہراہیں شہریوں کے لیے انتہائی خطرناک اور آمد و رفت کے لیے کٹھن بن گئی ہیں۔ بارش کے پانی کی مناسب نکاسی نہ ہونے اور سڑکوں کی خستہ حالی کی وجہ سے جگہ جگہ پانی جمع ہو گیا ہے، جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ سڑکوں پر پھسلن بڑھ گئی ہے اور متعدد مقامات پر گڑھے پانی میں چھپ جانے کی وجہ سے حادثات کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ محکمہ موسمیات اور متعلقہ اداروں کے مطابق، پنجاب کے مختلف اضلاع میں پہلے ہی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے نظامِ زندگی درہم برہم ہو چکا ہے۔ دوسری جانب، ایک نئے مون سون سلسلے کے 27 اگست سے پورے پاکستان میں داخل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، جس کے بعد مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ مزید بارشیں صورتحال کو مزید ابتر کر سکتی ہیں۔ ان تمام مشکلات کے تناظر میں حکومتِ پنجاب اور ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ خبر رساں ذرائع کے مطابق حکومت راولپنڈی کے نشیبی علاقوں میں پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے اور اربن فلڈنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے منی ڈیمز اور زمین کے اندر پانی ذخیرہ کرنے والے ٹینک (گراؤنڈ اسٹوریج ٹینک) تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد مستقبل میں ہونے والی شدید بارشوں کے دوران سیلابی صورتحال سے نمٹنا اور پانی کو محفوظ بنانا ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ نہ صرف طویل مدتی منصوبوں پر کام کرے بلکہ موجودہ بارشوں کے دوران بھی نکاسی آب کے فوری انتظامات کو یقینی بنائے تاکہ عوام کو درپیش پریشانیوں میں کمی لائی جا سکے اور سڑکوں کو دوبارہ محفوظ بنایا جا سکے.