Technology
ایچ ون بی ویزا فیس میں اضافہ اور بھارتی آئی ٹی سیکٹر پر اثرات
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایچ ون بی ویزا کی فیس میں ایک لاکھ تین ہزار ڈالر تک اضافے کی تجویز پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے تاہم ان کا اثر محدود رہنے کا امکان ہے۔
امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایچ ون بی (H-1B) ویزا کی فیس میں نمایاں اضافے کی تجویز، جو کہ ایک لاکھ تین ہزار ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، نے عالمی ٹیکنالوجی سیکٹر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اگرچہ اس প্রস্তাব پر ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے، لیکن مختلف میڈیا رپورٹس اور تجزیاتی اداروں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام خاص طور پر ان بھارتی کمپنیوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے جو بڑے پیمانے پر غیر ملکی ورکرز پر انحصار کرتی ہیں۔ اس مجوزہ فیس کا مقصد بظاہر مقامی امریکی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانا اور غیر ملکی ورک فورس پر انحصار کم کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی آئی ٹی کمپنیاں گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر اتنی بھاری فیس لاگو کی جاتی ہے تو اس سے کمپنیوں کے منافع پر اثر پڑے گا اور انہیں اپنی خدمات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ تاہم، کچھ تجزیہ کاروں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بڑی بھارتی کمپنیاں اب اپنے آپریشنز کو مقامی سطح پر منتقل کرنے اور امریکی شہریوں کو ملازمتیں دینے کی طرف مائل ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے اس نئی فیس کا ان پر براہ راست اثر محدود ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لیے یہ صورتحال انتہائی سنگین ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، امریکی امیگریشن پالیسی میں یہ سختیاں نہ صرف بھارتی بلکہ دیگر ممالک کے ٹیکنالوجی ماہرین کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان بن رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے امریکہ میں مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں مہارت رکھنے والے مستقبل کے لیڈروں کی آمد میں کمی آئے گی، جو بالآخر امریکی معیشت کی ترقی کو متاثر کر سکتی ہے۔ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری مسابقت کے پیش نظر، ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ سخت ویزا پالیسی امریکہ کی اپنی تکنیکی برتری کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
فی الحال، تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا امریکی انتظامیہ اس تجویز کو قانون کی شکل دیتی ہے یا نہیں۔ بھارتی کمپنیاں اور ان کے اتحادی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنی حکمت عملیوں کو تبدیل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ پالیسی صرف ایک سیاسی بیانیہ ثابت ہوتی ہے یا عملی طور پر امریکی امیگریشن نظام کا مستقل حصہ بن جاتی ہے۔