LIVE
Loading Breaking News...

این ایف ایل کے سابق کھلاڑیوں میں دماغی امراض کے بڑھتے کیسز پر طبی تحقیق

News Image
ایک حالیہ طبی تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف ہوا ہے کہ 2016 سے 2021 کے درمیان انتقال کرنے والے کم از کم ہر چار میں سے ایک سابق این ایف ایل کھلاڑی ایک خطرناک اور تنزلی کا شکار کرنے والی دماغی بیماری میں مبتلا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے حقیقی اعداد و شمار سرکاری رپورٹ سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔
امریکی فٹ بال لیگ (NFL) کے سابق کھلاڑیوں کی صحت سے متعلق ایک انتہائی تشویشناک طبی تحقیق منظر عام پر آئی ہے، جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ریٹائرڈ کھلاڑیوں میں دماغی تنزلی کی بیماریوں کی شرح گزشتہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس تحقیق کے مطابق، 2016 سے 2021 کے دوران انتقال کرنے والے کم از کم ہر چار میں سے ایک سابق کھلاڑی ایک ایسی دماغی بیماری کا شکار تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ یادداشت، سوچنے کی صلاحیت اور جذباتی کنٹرول کو تباہ کر دیتی ہے۔ طبی ماہرین کے نزدیک یہ اعداد و شمار صرف ان کیسز پر مبنی ہیں جن کی تصدیق ہو سکی ہے، جبکہ حقیقی تعداد اس سے کافی زیادہ ہونے کا قوی امکان موجود ہے۔ اس تحقیق میں خاص طور پر 'کرونک ٹرامیٹک اینسیفالوپیتھی' (CTE) جیسی بیماریوں کا ذکر کیا گیا ہے، جو سر پر لگنے والی بار بار کی چوٹوں اور جھٹکوں کا نتیجہ ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فٹ بال جیسے سخت جسمانی کھیل کے دوران کھلاڑیوں کے سر پر لگنے والی چوٹیں بظاہر فوری طور پر جان لیوا محسوس نہیں ہوتیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ دماغ کے خلیات کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج سے کھیلوں کی دنیا میں حفاظتی اقدامات اور کھلاڑیوں کی طویل مدتی صحت کے بارے میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ این ایف ایل انتظامیہ کو کھلاڑیوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی دماغی صحت کی مسلسل نگرانی کرنی چاہیے۔ صرف ان کھلاڑیوں کے ڈیٹا کو مدنظر رکھنا جو اپنی زندگی میں طبی معائنے کے لیے رضامند ہوتے ہیں، مکمل تصویر نہیں دکھاتا۔ یہ تحقیق اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کھیلوں میں سر کے تحفظ کے لیے استعمال ہونے والے آلات کو مزید جدید بنایا جائے اور کھیل کے قواعد میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جس سے کھلاڑیوں کے سر پر اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ آخر میں، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اور سخت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے، تو آنے والے برسوں میں مزید سابق کھلاڑیوں کو دماغی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ رپورٹ کھیلوں کی تنظیموں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ کھلاڑیوں کی زندگی کھیل کے میدان سے باہر بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ کھیل کے دوران۔ اب وقت آ گیا ہے کہ این ایف ایل اس معاملے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرے اور ان کھلاڑیوں کی طبی معاونت کے لیے مزید وسائل مختص کرے جو برسوں تک اپنی جسمانی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے رہے۔