LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں شہید صحافی مریم دگہ کی پہلی برسی

News Image
اسرائیلی فضائی حملے میں اے پی کی صحافی مریم دگہ کی ہلاکت کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ شہید صحافیہ ناصر ہسپتال میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔
غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جارحیت کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے صحافیوں کی فہرست میں شامل مریم دگہ کی شہادت کو آج ایک برس مکمل ہو گیا ہے۔ اے پی سے منسلک صحافیہ مریم دگہ غزہ کے ناصر ہسپتال میں موجود تھیں جب اسرائیلی فوج نے ایک فضائی حملے کے ذریعے اس اہم طبی مرکز کو نشانہ بنایا۔ اس افسوسناک واقعے میں جہاں متعدد عام شہری شہید اور زخمی ہوئے، وہیں مریم دگہ بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ابدی نیند سو گئیں۔ ان کی شہادت کا واقعہ غزہ میں صحافیوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک تلخ یادگار کے طور پر قائم ہے۔ صحافتی تنظیموں اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ مریم دگہ کا شمار ان نڈر صحافیوں میں ہوتا تھا جنہوں نے انتہائی نامساعد حالات اور مسلسل خطرات کے باوجود غزہ کی صورتحال کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی۔ ایک سال گزرنے کے باوجود، ان کے اہل خانہ اور ساتھی صحافی آج بھی انصاف کے منتظر ہیں اور ان کی یاد کو تازہ کر رہے ہیں۔ اسرائیلی فورسز کی جانب سے میڈیا ہاؤسز اور ہسپتالوں کو ہدف بنانا اس جنگ کا ایک افسوسناک پہلو رہا ہے جس نے خطے میں صحافت کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ مریم دگہ کی پہلی برسی کے موقع پر سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا حلقوں میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ صحافتی آزادی کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں صحافیوں کا قتل، حقیقت کو چھپانے کی ایک منظم کوشش ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، اس جنگ میں بڑی تعداد میں میڈیا کے نمائندوں کی ہلاکت نے انسانی المیے کی سنگینی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ مریم دگہ کی قربانی آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال ہے کہ کس طرح سچ کی تلاش میں نکلنے والے افراد اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ ان کی شہادت کا یہ پہلا برس دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں صحافیوں کا تحفظ یقینی بنانا کتنا ضروری ہے تاکہ سچ کی آواز دبنے نہ پائے۔