LIVE
Loading Breaking News...

امریکی سیاست اور اسرائیل: ڈیموکریٹک پارٹی کی خارجہ پالیسی کا جائزہ

News Image
امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت بدستور اسرائیل نواز پالیسیوں پر کاربند ہے اور اس میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ پارٹی قیادت اپنے فلسطینی حامی ووٹرز کو مطمئن کرنے کے ساتھ ساتھ روایتی حامیوں کو بھی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں جاری حالیہ بحث و مباحثے کے باوجود، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کا اسرائیل کے حوالے سے مجموعی موقف مستحکم اور روایتی رہا ہے۔ اگرچہ پارٹی کے اندر کچھ حلقے فلسطین کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں اور پارٹی کی پالیسیوں پر تنقید بھی کر رہے ہیں، لیکن مرکزی قیادت بدستور اسرائیل نواز کیمپ میں مضبوطی سے کھڑی ہے۔ ڈیموکریٹک اسٹیبلشمنٹ کا ماننا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کو برقرار رکھنا امریکی مفادات کے لیے ناگزیر ہے، اسی لیے پارٹی کی اعلیٰ قیادت اپنی خارجہ پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی لانے سے گریزاں ہے۔ دوسری جانب، پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج اپنے نوجوان اور پرو فلسطین ووٹرز کی بڑھتی ہوئی ناراضگی کو سنبھالنا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے حکمت عملی ساز اس کوشش میں مصروف ہیں کہ کس طرح پرو فلسطین ووٹرز کو پارٹی کے ساتھ جوڑے رکھا جائے جبکہ اسرائیل کی روایتی حمایت کو بھی متاثر نہ ہونے دیا جائے۔ یہ ایک پیچیدہ سیاسی توازن ہے جس کے تحت پارٹی قیادت اکثر بیانات میں انسانی حقوق پر زور دیتی ہے تاکہ اپنے بائیں بازو کے حامیوں کو مطمئن کیا جا سکے، تاہم عملی اقدامات اور پالیسی سازی کی سطح پر کوئی ایسی تبدیلی نظر نہیں آتی جس سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں کوئی دراڑ پڑتی ہو۔ تجزیاتی نقطہ نظر سے، ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر موجود یہ تقسیم دراصل پارٹی کی اندرونی سیاست کا حصہ بن چکی ہے۔ جہاں ایک طرف پارٹی کے ترقی پسند گروپ اسرائیل پر سخت تنقید کرتے ہیں، وہیں مرکزی دھارے کے رہنما اپنی پرانی پالیسیوں پر ہی کاربند ہیں۔ اس صورتحال نے پارٹی کی انتخابی مہمات کو بھی متاثر کیا ہے، کیونکہ ووٹرز کی ترجیحات تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ تاہم، ابھی تک اس بات کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی اپنی طویل مدتی اسرائیل پالیسی کو تبدیل کرنے کی طرف مائل ہے۔ مستقبل قریب میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ڈیموکریٹک پارٹی اپنی اس دوغلی حکمت عملی کو جاری رکھ پائے گی یا اسے کسی بڑے سیاسی دباؤ کے پیش نظر اپنی خارجہ پالیسی میں اصلاحات لانی پڑیں گی۔ فی الحال، پارٹی کا ڈھانچہ اور اس کے فیصلہ سازی کے مراکز اسرائیل کی حمایت کے معاملے پر متحد دکھائی دیتے ہیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ امریکی سیاست کے ایوانوں میں اسرائیل کا اثر و رسوخ ابھی بھی گہرا ہے اور ڈیموکریٹک قیادت کسی بھی بڑی تبدیلی کے بجائے موجودہ پوزیشن کو برقرار رکھنے کو ہی اپنی ترجیح سمجھتی ہے۔