LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کی جھیل اونٹاریو کا نام بدل کر لیک امریکہ رکھنے کی تجویز

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی اور تنازع کے دوران جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کا انوکھا مشورہ دیا ہے۔ اس تجویز کا مقصد کینیڈین صوبے اور امریکی ریاست کے درمیان واقع اس آبی ذخیرے کو نیا سیاسی اور علامتی رنگ دینا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ اور کینیڈا کے مابین تجارتی امور پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور معاشی چپقلش کے تناظر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتہائی متنازعہ اور دلچسپ تجویز پیش کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی جنگ کے دوران جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے اسے 'لیک امریکہ' یعنی امریکی جھیل رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی اور معاشی تعلقات میں مزید گرما گرمی پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ جھیل اونٹاریو شمالی امریکہ کی عظیم جھیلوں میں سے ایک ہے جو جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ جھیل شمال اور مشرق میں کینیڈا کے صوبے اونٹاریو اور جنوب اور مغرب میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ریاست نیویارک کے درمیان ایک طبعی سرحد اور مشترکہ آبی ذخیرہ بناتی ہے۔ بین الاقوامی سرحدیں اس جھیل کے درمیان سے گزرتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ دونوں پڑوسی ممالک کے باہمی تجارتی اور ماہی پروری کے معاملات میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام تبدیل کرنے کی بات کرنا دونوں خطوں کے عوام اور سیاسی مبصرین کے لیے ایک غیر متوقع موڑ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات دراصل علامتی سیاست کا حصہ ہوتے ہیں جو تجارتی مذاکرات یا تنازعات کے دوران دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ کینیڈا اور امریکہ کے مابین حالیہ تجارتی اختلافات میں محصولات اور برآمدات کے مسائل سر فہرست رہے ہیں۔ ایسے میں کسی جغرافیائی مقام کا نام بدلنے کی بات کرنا محض ایک سیاسی شوشہ بھی ہو سکتا ہے لیکن اس سے عوامی سطح پر جذبات ابھارنے میں مدد ملتی ہے۔ ابھی تک کینیڈین حکومت کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ شدید ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم کینیڈین میڈیا اور عوام میں اس پر ملا جلا تجسس اور حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جھیل کا نام تبدیل کرنا کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ اس کا نصف حصہ کینیڈا کی حدود میں آتا ہے۔ آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ یہ بیان محض ایک سیاسی بیان بازی تک محدود رہتا ہے یا دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی کو مزید گہرا کرنے کا سبب بنتا ہے۔