LIVE
Loading Breaking News...

ایران پر امریکی پابندیاں: چین کا سخت موقف اور ردعمل

News Image
چین نے ایران پر امریکہ کی جانب سے عائد کردہ نئی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے مشرق وسطیٰ کے تنازعات کا حل ممکن نہیں ہے۔ بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور اقتصادی تعلقات کا بھرپور دفاع کرے گا۔
چین نے امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیجنگ اپنے جائز قومی مفادات اور بین الاقوامی تجارت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔ چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یکطرفہ پابندیاں کبھی بھی مسائل کے حل کا ذریعہ نہیں بنیں، بلکہ اس کے برعکس یہ خطے میں عدم استحکام اور کشیدگی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ چین نے زور دے کر کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا واحد حل سفارتی بات چیت اور تعمیری مذاکرات میں پوشیدہ ہے، نہ کہ دباؤ کی پالیسی میں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، چین نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیاں نہ صرف ایران کی معیشت کو متاثر کریں گی بلکہ عالمی منڈیوں اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بھی پیچیدہ بنائیں گی۔ چین کا موقف رہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی اور توانائی کے شعبے میں تعلقات کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق جاری رکھے گا۔ بیجنگ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی ملک کو دوسرے ملک کے ساتھ کیے جانے والے تجارتی معاہدوں میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چین نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے اور پابندیوں کا نفاذ مسائل کو مزید الجھانے کے مترادف ہے۔ چین کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی کوششیں تیز ہو رہی ہیں، تاہم چین نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کی اس پالیسی کا حصہ نہیں بنے گا اور اپنی آزادانہ خارجہ پالیسی کے تحت ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھے گا۔ آخر میں، چین نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے حصول کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔ بیجنگ کا ماننا ہے کہ طاقت کا استعمال یا اقتصادی پابندیاں دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتیں، بلکہ اس کے لیے تمام فریقین کے مابین باہمی اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔ چین کی جانب سے اس واضح موقف نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا امریکہ کی جانب سے پابندیوں کی سیاست عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات کو مزید کشیدہ کر دے گی یا اس سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر کوئی اثر پڑے گا۔