LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل شام میں اپنی فوجی موجودگی جاری رکھے گا، وزیر دفاع کا بیان

News Image
اسرائیلی وزیر دفاع نے ایک دورے کے دوران اعلان کیا ہے کہ اسرائیل شام میں اپنی فوجی موجودگی کو بدستور برقرار رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی سلامتی کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے شام کے ایک حالیہ دورے کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اسرائیل شام کی سرزمین پر اپنی فوجی موجودگی کو نہ صرف برقرار رکھے گا بلکہ اسے ملکی سلامتی کے تناظر میں انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے مختلف فوجی تنصیبات کا معائنہ کیا اور فیلڈ کمانڈروں کے ساتھ سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ خطے میں بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر اسرائیل اپنی سرحدوں کی حفاظت اور دشمن عناصر کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے شام میں اپنی سٹریٹجک موجودگی کو جاری رکھنے کا پابند ہے۔ ماہرین کے مطابق اسرائیل کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے بادل منڈلا رہے ہیں اور شام میں جاری مختلف غیر ملکی مداخلتوں کی وجہ سے صورتحال پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ اسرائیل مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے قریب کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گا جو اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکے۔ وزیر دفاع نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اسرائیلی فوج کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہر وقت الرٹ ہے اور شام میں ان کی موجودگی کا مقصد صرف اور صرف اپنے دفاعی مقاصد کا حصول ہے۔ اس دورے کے دوران وزیر دفاع نے مقامی فوجی قیادت کو ہدایت کی کہ وہ مسلسل مستعد رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید بہتر بنائیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیل خطے میں کسی بھی بڑی جنگ کا خواہاں نہیں ہے تاہم اپنے دفاع کے لیے تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔ شام میں اسرائیلی فوج کی مستقل موجودگی پر بین الاقوامی سطح پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، تاہم اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ اقدامات ان کی اپنی بقا اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ عزم خطے کے جیوسیاسی نقشے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ شام میں جاری پراکسی وار اور مختلف طاقتوں کے اثر و رسوخ کے درمیان اسرائیل کی اس طرح کی سخت پوزیشن خطے میں مزید غیر یقینی صورتحال کو جنم دے سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں شام کی حکومت اور دیگر عالمی طاقتیں اسرائیلی وزیر دفاع کے اس بیان پر کیا ردعمل دیتی ہیں اور زمینی حقائق کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔