LIVE
Loading Breaking News...

لاہور ہائی کورٹ کا گھریلو بجلی کنکشن کے حوالے سے تاریخی حکم

News Image
لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ گھریلو بجلی کا کنکشن منقطع کرنا غیر قانونی عمل ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے بجلی کے گھریلو صارفین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی بھی گھریلو بجلی کے کنکشن کو بلاجواز یا قانون سے ہٹ کر منقطع کرنا غیر قانونی ہے۔ عدالت عالیہ نے اپنے تفصیلی حکم نامے میں کہا ہے کہ بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ من مانی کرتے ہوئے یا کسی بھی تکنیکی بنیاد پر صارفین کو بنیادی سہولت سے محروم کریں۔ اس فیصلے کے بعد اب لیسکو سمیت دیگر تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو صارفین کے کنکشن کاٹنے سے قبل قانونی ضابطوں اور شفافیت کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ بجلی کا کنکشن ایک بنیادی انسانی ضرورت سے منسلک ہے اور اسے منقطع کرنے کا عمل کسی بھی طرح سے ایک خودکار یا من مانا عمل نہیں ہونا چاہیے۔ مزید برآں، عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اکثر اوقات صارفین کو بغیر کسی نوٹس یا مناسب سماعت کے بجلی سے محروم کر دیا جاتا ہے، جو کہ آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اگر کسی صارف کے میٹر میں کوئی تکنیکی خرابی یا بلنگ کا مسئلہ ہے تو اسے پہلے قانون کے مطابق حل کیا جائے، نہ کہ فوری طور پر کنکشن کاٹ کر صارف کو مشکلات میں دھکیلا جائے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جاری رکھنا کمپنیوں کی ذمہ داری ہے اور بلاوجہ بجلی کاٹنے والے ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جانی چاہیے۔ قانونی ماہرین کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ان لاکھوں صارفین کے لیے ایک بڑی ریلیف ہے جو آئے روز بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بلاوجہ کنکشن کاٹے جانے کے باعث ذہنی اذیت سے دوچار رہتے ہیں۔ عدالت نے تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اپنے آپریشنل طریقہ کار کو بہتر بنائیں اور صارفین کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے میں شفافیت لائیں۔ اس فیصلے کے بعد اب صارفین کو بھی اپنے قانونی حقوق کے حصول کے لیے ایک مضبوط قانونی ڈھال مل گئی ہے، جس سے امید ہے کہ بجلی کمپنیوں کی جانب سے کی جانے والی من مانیوں میں کمی آئے گی اور صارفین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔