LIVE
Loading Breaking News...

ویٹرنری انڈسٹری میں آؤٹ سورسنگ کا انقلاب، مارکیٹ ویلیو میں نمایاں اضافہ

News Image
عالمی سطح پر جانوروں کی صحت کے شعبے میں آؤٹ سورسنگ کے رجحان میں تیزی کے باعث ویٹرنری خدمات کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ سال 2035 تک اس مارکیٹ کا حجم 19.61 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔
عالمی سطح پر جانوروں کی صحت کے شعبے میں تحقیق اور ترقی کے اخراجات میں اضافے کے ساتھ ساتھ آؤٹ سورسنگ کے رجحانات نے ویٹرنری کنٹریکٹ ریسرچ آرگنائزیشنز (CRO) اور کنٹریکٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینوفیکچرنگ آرگنائزیشنز (CDMO) کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، ویٹرنری خدمات کی عالمی مارکیٹ کا حجم 2035 تک 19.61 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس نمو کی بنیادی وجہ جانوروں کے لیے جدید ویکسین، خاص طور پر ایم آر این اے (mRNA) ٹیکنالوجی اور بائیولوجکس ادویات کی مانگ میں اضافہ ہے۔ کمپنیاں اب اپنی تحقیق اور مینوفیکچرنگ کے عمل کو تیز کرنے کے لیے بیرونی ماہر اداروں پر انحصار کر رہی ہیں۔ امریکہ اور یورپ اس مارکیٹ میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ صرف امریکی ویٹرنری CRO اور CDMO مارکیٹ کے بارے میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ یہ 2035 تک 5.48 بلین ڈالر کے سنگ میل کو عبور کر لے گی۔ دوسری جانب، یورپی مارکیٹ بھی سخت ریگولیٹری تقاضوں اور مستحکم طبی ڈھانچے کی بدولت 4.37 بلین ڈالر تک پہنچنے کی راہ پر گامزن ہے۔ دنیا بھر میں پالتو جانوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور مویشیوں کی صحت کے حوالے سے شعور میں اضافہ اس شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کمپنیاں اب کم لاگت میں بہتر نتائج کے حصول کے لیے ان خصوصی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ شراکت داری کر رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی پیش رفت، جیسے کہ بائیولوجیکل ادویات اور جدید حفاظتی ٹیکوں کی تیاری، اس مارکیٹ کو نئی جہتیں دے رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے سالوں میں ویٹرنری ادویات کی تیاری کا عمل مزید پیچیدہ اور تکنیکی ہو جائے گا، جس کے لیے جدید لیبارٹریوں اور ماہر محققین کی ضرورت ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ آؤٹ سورسنگ کا ماڈل اب انڈسٹری کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، جو نہ صرف کمپنیوں کے وقت کو بچاتا ہے بلکہ انہیں مارکیٹ میں نئی ادویات لانے کے عمل کو بھی تیز کرنے میں مدد دیتا ہے۔