LIVE
Loading Breaking News...

جوہری فیوژن ٹیکنالوجی میں روس کی برتری اور مستقبل

News Image
روس جوہری فیوژن کے شعبے میں طویل عرصے سے ایک عالمی رہنما کے طور پر اپنی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ سوویت دور میں ایجاد کردہ ٹوکامک ٹیکنالوجی آج بھی بین الاقوامی توانائی کے منصوبوں کی بنیاد بنی ہوئی ہے۔
جوہری فیوژن توانائی کے شعبے میں روس کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ دہائیوں سے روسی سائنسدان نہ صرف نظریاتی بلکہ عملی طور پر اس ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں مصروف ہیں۔ اس سفر کا آغاز 1950 کی دہائی میں سوویت یونین کے ان ماہرینِ طبیعیات نے کیا جنہوں نے 'ٹوکامک' (Tokamak) کا تصور پیش کیا۔ ٹوکامک دراصل ایک ایسا آلہ ہے جو مقناطیسی میدان کا استعمال کرتے ہوئے پلازما کو ایک کنٹرول شدہ طریقے سے گھیرا جاتا ہے تاکہ نیوکلیئر فیوژن کا عمل ممکن ہو سکے۔ آج یہی ڈیزائن دنیا بھر میں جوہری توانائی کے تجربات کی بنیاد سمجھا جاتا ہے اور دنیا کے بڑے منصوبے اسی روسی ایجاد کے مرہونِ منت ہیں۔ بین الاقوامی تھرمونیوکلیئر ایکسپیریمنٹل ری ایکٹر (ITER) منصوبہ، جو انسانی تاریخ کے سب سے بڑے سائنسی اشتراکات میں سے ایک ہے، اس میں روس کی شراکت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ روسی ماہرین نے نہ صرف اس پروجیکٹ کے لیے جدید ٹیکنالوجیز فراہم کی ہیں بلکہ فیوژن کے عمل کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری اجزاء کی تیاری میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ روس کی جانب سے تیار کردہ مقناطیسی نظام اور فیوژن ری ایکٹرز کے اندرونی حصے، پلازما کو اربوں ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم رکھنے اور اسے کنٹرول کرنے میں عالمی معیار کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے فیوژن ایک بہترین آپشن ہے کیونکہ یہ سورج کی طرح توانائی پیدا کرتا ہے، جس میں تابکاری کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے اور ایندھن کے وسائل لامحدود ہیں۔ روس، اپنی منفرد تکنیکی مہارتوں کی بدولت، اس میدان میں مسلسل جدت لا رہا ہے۔ روسی سائنسدان اس وقت ایسے ری ایکٹر ڈیزائن کر رہے ہیں جو نہ صرف توانائی پیدا کریں بلکہ انہیں تجارتی پیمانے پر گرڈ میں شامل کرنے کے لیے بھی موزوں بنایا جا سکے۔ یہ کوششیں آنے والے وقتوں میں دنیا کو سستی، صاف ستھری اور پائیدار توانائی فراہم کرنے میں ایک سنگ میل ثابت ہوں گی۔