Technology
بی وائی ڈی گریٹ ہان: 1000 کلومیٹر رینج والی سستی الیکٹرک کار
چائنیز الیکٹرک وہیکل کمپنی بی وائی ڈی نے اپنی نئی فلیگ شپ سیڈان 'گریٹ ہان' کے آرڈرز کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ گاڑی ایک بار مکمل چارج ہونے پر 1000 کلومیٹر سے زائد کا سفر طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
چین کی معروف الیکٹرک وہیکل ساز کمپنی بی وائی ڈی (BYD) نے اپنی نئی فلیگ شپ الیکٹرک سیڈان 'گریٹ ہان' (Great Han) کے لیے آرڈرز وصول کرنا شروع کر دیے ہیں۔ یہ گاڑی آٹو موبائل انڈسٹری میں ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس کی رینج اور قیمت کا تناسب اسے مارکیٹ میں موجود دیگر تمام بڑی کمپنیوں کے لیے ایک سخت حریف بناتا ہے۔ کمپنی کے مطابق، یہ گاڑی ایک بار مکمل چارج ہونے پر 1000 کلومیٹر سے زائد کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو الیکٹرک گاڑیوں کی دنیا میں ایک غیر معمولی سنگ میل ہے۔
نئی گریٹ ہان، جسے چین میں 'دا ہان' (Da Han) کے نام سے پکارا جاتا ہے، جدید ترین بیٹری ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ اس کی قیمت 40 ہزار امریکی ڈالر سے کم رکھی گئی ہے، جس کا مقصد عام صارفین کو طویل فاصلے تک سفر کرنے والی ماحول دوست گاڑیوں کی طرف راغب کرنا ہے۔ اس قیمت پر اتنی زیادہ رینج فراہم کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بی وائی ڈی اپنی پروڈکشن لائن کو مزید موثر بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے اور اب وہ عالمی سطح پر ٹیسلا جیسی بڑی کمپنیوں کو ٹکر دے رہی ہے۔
اس گاڑی کے اندرونی حصے اور تکنیکی خصوصیات پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔ گریٹ ہان میں جدید ترین سافٹ ویئر، خود کار ڈرائیونگ کے فیچرز اور پریمیم انٹیریئر ڈیزائن فراہم کیا گیا ہے جو اسے ایک لگژری سیڈان کا درجہ دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل نہ صرف چینی مارکیٹ میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کار کی تیاری میں ماحول دوست مواد کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ کاربن اخراج کو کم سے کم کیا جا سکے۔
بی وائی ڈی کے اس اقدام سے الیکٹرک گاڑیوں کی عالمی منڈی میں قیمتوں کا ایک نیا مقابلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔ جہاں دنیا بھر میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث صارفین الیکٹرک گاڑیوں کی جانب مائل ہو رہے ہیں، وہاں 1000 کلومیٹر رینج جیسی سہولت کے ساتھ گریٹ ہان ایک پرکشش انتخاب ثابت ہوگی۔ کمپنی نے امید ظاہر کی ہے کہ ابتدائی آرڈرز کے بعد اس گاڑی کی ڈیمانڈ میں مزید اضافہ ہوگا اور یہ آنے والے دنوں میں سڑکوں پر ایک عام منظر بن جائے گی۔