LIVE
Loading Breaking News...

شمسی توانائی کا نیا ریکارڈ: پیریوسکائٹ ٹینڈم سیلز کی کارکردگی 35.5 فیصد تک

News Image
سائنسی تحقیق کے نتیجے میں شمسی سیلز کی کارکردگی 2009 کے 3.8 فیصد سے بڑھ کر اب 35.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کامیابی کا سہرا سلیکون اور پیریوسکائٹ پر مشتمل ٹینڈم سیلز کو جاتا ہے جسے بین الاقوامی سطح پر تصدیق بھی حاصل ہے۔
شمسی توانائی کی دنیا میں ایک نمایاں پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے جہاں سائنسدانوں نے شمسی سیلز کی کارکردگی کو ایک نئی بلندی تک پہنچا دیا ہے۔ سن 2009 میں جب پیریوسکائٹ ٹیکنالوجی پر کام کا آغاز ہوا تھا تو اس وقت ان سیلز کی کارکردگی محض 3.8 فیصد تھی۔ تاہم سترہ سال کی مسلسل تحقیق اور جدید تجربات کے بعد اب لانگی (LONGi) کی جانب سے تیار کردہ سلیکون-پیریوسکائٹ ٹینڈم سیل نے 35.5 فیصد کارکردگی کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ اس کامیابی کی تصدیق یورپی سولر ٹیسٹ انسٹی ٹیوشن (ESTI) کی جانب سے آزادانہ طور پر کی گئی ہے جو اس ٹیکنالوجی کی افادیت کو ثابت کرتی ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خوبی اس کا دوہری ساخت کا حامل ہونا ہے۔ روایتی شمسی سیلز کے برعکس، یہ ٹینڈم سیلز دو الگ الگ جذب کرنے والے مادوں (Absorbers) کو یکجا کرتے ہیں، جس کی بدولت سورج کی روشنی کے سپیکٹرم کو کہیں زیادہ مؤثر طریقے سے قید کیا جا سکتا ہے۔ عام طور پر سلیکون پر مبنی سیلز ایک حد تک ہی روشنی کو توانائی میں تبدیل کر پاتے ہیں، لیکن پیریوسکائٹ کی تہہ شامل کرنے سے یہ سیلز روشنی کے ان حصوں کو بھی توانائی میں بدلنے کے قابل ہو جاتے ہیں جو پہلے ضائع ہو جاتے تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت مستقبل میں سستی اور زیادہ مؤثر بجلی کی فراہمی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔ شمسی پینلز کی کارکردگی میں یہ ڈرامائی اضافہ نہ صرف توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد دے گا بلکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے عالمی اہداف کے حصول میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو کمرشل پیمانے پر بڑے پیمانے پر عام کرنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے، تاہم 35.5 فیصد کا یہ ہندسہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع اب روایتی ایندھن کا ایک طاقتور اور موثر متبادل بن چکے ہیں۔