LIVE
Loading Breaking News...

کٹے ہوئے پھولوں کی عالمی مارکیٹ میں تیزی، مارکیٹ ویلیو 52 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی

News Image
مارڈر انٹیلیجنس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق کٹے ہوئے پھولوں کی عالمی منڈی میں 5.4 فیصد کی شرح سے اضافہ متوقع ہے۔ آن لائن آرڈرنگ اور جدید کولڈ چین ٹیکنالوجی اس شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
عالمی سطح پر پھولوں کی تجارت ایک بڑی صنعت بن کر ابھر رہی ہے اور حالیہ تجزیاتی رپورٹس کے مطابق اس شعبے میں غیر معمولی ترقی دیکھنے میں آئے گی۔ مارڈر انٹیلیجنس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، کٹے ہوئے پھولوں کی عالمی منڈی کی مالیت جو 2026 میں 40.58 ارب ڈالر ہے، اس کے 2031 تک 52.78 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس پیشرفت کے لیے 5.4 فیصد کی سالانہ کمپاؤنڈ گروتھ ریٹ (CAGR) کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو کہ اس شعبے میں بڑھتی ہوئی مانگ اور سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔ اس نمو کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں جن میں صارفین کے بدلتے ہوئے رجحانات اور تجارتی سہولیات میں جدت سرفہرست ہیں۔ ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس کے شعبے میں ہونے والی پیشرفت اس صنعت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو رہی ہے۔ خاص طور پر 'کولڈ چین' ٹیکنالوجی میں جدت کے باعث اب نازک پھولوں کو طویل فاصلے تک تازہ حالت میں پہنچانا ممکن ہو گیا ہے، جس سے بین الاقوامی تجارت کی رکاوٹیں دور ہو رہی ہیں۔ جدید ریفریجریشن کے نظام اور تیزی سے ترسیل کے نیٹ ورکس نے پھولوں کی عالمی سپلائی چین کو مضبوط بنایا ہے۔ اس کے علاوہ، آن لائن آرڈرنگ پلیٹ فارمز کے پھیلاؤ نے صارفین کو دنیا کے کسی بھی کونے سے پھولوں کی خریداری کی سہولت فراہم کی ہے، جس سے روایتی بازاروں کے مقابلے میں ای کامرس کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ صارفین کی جانب سے خاص مواقع، تقریبات اور تحائف کے لیے پھولوں کا استعمال بڑھنے سے بھی اس منڈی کو استحکام مل رہا ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات سے لے کر کارپوریٹ ایونٹس تک، پھولوں کی مانگ میں مستقل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مزید برآں، کسانوں اور برآمد کنندگان اب جدید کاشتکاری کے طریقے اپنا رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق پھول پیدا کیے جا سکیں، جس سے دنیا بھر میں پھولوں کی تجارت مزید شفاف اور مربوط ہو رہی ہے۔ آنے والے سالوں میں امید کی جا رہی ہے کہ یہ صنعت مزید جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوگی، جس سے نہ صرف منافع میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔