Politics
ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی اور تازہ ترین سروے کے نتائج
تازہ ترین سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ نچلی سطح پر رک گئی ہے جبکہ ایران کے خلاف جنگ کی حمایت میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ سروے کے بعد ٹرمپ کی جانب سے ان منفی رجحانات کو ریپبلکن پارٹی کے خلاف سازش قرار دیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مڈٹرم انتخابات سے قبل سخت سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ تازہ ترین قومی سروے کے مطابق ان کی عوامی مقبولیت ریکارڈ کم ترین سطح پر پھنس گئی ہے۔ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے جب ایران کے ساتھ جنگ اور فوجی کارروائیوں کے حق میں حمایت میں بھی ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے اور اب صرف اکتیس فیصد امریکی عوام اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار وائٹ ہاؤس کے لیے خارجہ پالیسی کے محاذ پر ایک بڑا دھکا ہیں۔
اس نئے سروے نے ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی بڑی دراڑیں عیاں کر دی ہیں، جن میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ صرف پینتیس فیصد ریپبلکن ووٹرز ٹرمپ کے کام کو مضبوطی سے سراہ رہے ہیں۔ روایتی حمایت کے حامل حلقوں میں اس طرح کی گراوٹ نے پارٹی قیادت میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب اہم انتخابی معرکے سر پر ہیں۔ مڈٹرم انتخابات سے پہلے خارجہ امور اور دفاعی فیصلوں پر عوامی اعتماد کا کم ہونا حکمران جماعت کے لیے مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
ان شدید تنقیدی اور کمزور انتخابی نمبروں کے ردعمل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پولز کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ریپبلکن پارٹی کے خلاف نفسیاتی اور حوصلہ شکنی پر مبنی کارروائیاں قرار دیا ہے۔ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کا موقف ہے کہ یہ اعداد و شمار زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتے بلکہ سیاسی مخالفین کی طرف سے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی ایک سازش ہیں۔ اس کے باوجود، میڈیا رپورٹس اور سیاسی مبصرین کے مطابق، عامۃ الناس میں بڑھتی ہوئی یہ بے چینی آنے والے دنوں میں امریکی سیاسی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔