LIVE
Loading Breaking News...

ایران کی معیشت پر امریکی پابندیاں اور ٹرمپ کی نئی حکمت عملی

News Image
ایران امریکی پابندیوں کے باوجود چین اور دیگر ممالک کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مجوزہ 'اکنامک ڈی ڈے' حکمت عملی تہران کی معیشت کے لیے بڑے چیلنجز کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ایران طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور اس نے اپنے معاشی مفادات کو محفوظ رکھنے کے لیے متعدد ممالک کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات استوار کیے ہیں۔ تہران کی معاشی حکمت عملی کا بڑا دارومدار چین، روس اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ہونے والی تجارت پر ہے۔ بالخصوص، چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، جو تہران کو بین الاقوامی تنہائی سے نکالنے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ تجارتی شراکت داریاں ایران کو امریکی دباؤ کے باوجود اپنی معیشت کو کسی حد تک مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوئی ہیں۔ دوسری جانب، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 'اکنامک ڈی ڈے' (Economic D-Day) جیسی اصطلاحات کا استعمال ایران کے لیے ایک نئی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ اگر ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں اور اس طرح کی جارحانہ اقتصادی پالیسیاں نافذ کرتے ہیں، تو ایران پر عائد پابندیوں کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کی تیل کی برآمدات کو صفر تک پہنچانے کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھا سکتی ہے، جس کے براہ راست اثرات ایرانی کرنسی اور مہنگائی کی شرح پر پڑیں گے۔ تہران کے لیے چیلنج صرف پابندیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا بھی نتیجہ ہے۔ اگر امریکہ اپنے اتحادیوں کو ایران کے ساتھ تجارت محدود کرنے پر مجبور کرتا ہے، تو ایران کو اپنی معیشت کو رواں رکھنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران کی جانب سے کیے جانے والے جوابی اقدامات، جیسے کہ خطے میں عسکری اثر و رسوخ اور پراکسی گروپس کی حمایت، بھی ان معاشی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ آخر کار، یہ صورتحال نہ صرف ایران بلکہ عالمی منڈیوں کے لیے بھی غیر یقینی کا باعث ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی تجارت میں رکاوٹیں عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا ایران اپنے موجودہ تجارتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان ممکنہ نئی پابندیوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا اسے اپنی خارجہ پالیسی اور معاشی ترجیحات میں نمایاں تبدیلیاں لانا پڑیں گی۔