World
سویڈن میں روسی جائیداد کی ضبطی کا معاملہ، بحری اڈے کو خطرات لاحق
سویڈن کی مسلح افواج نے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر مسکو بحری اڈے کے قریب واقع روسی ملکیت کا پلاٹ حکومت سے ضبط کرنے کی درخواست کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس علاقے کا استعمال روسی ڈرونز کی نگرانی اور جاسوسی کے لیے کیے جانے کا خدشہ ہے۔
سویڈن کی مسلح افواج نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سٹاک ہوم کے قریب واقع مسکو (Muskö) بحری اڈے کے نزدیک روسی ملکیت میں موجود ایک نجی جائیداد کو فوری طور پر اپنی تحویل میں لے لے۔ یہ اقدام سویڈن کی جانب سے اپنی قومی سلامتی اور بحری حدود کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے سخت اقدامات کا حصہ ہے۔ حکام کے مطابق اس جائیداد کے قریب روسی ڈرونز کی مشکوک سرگرمیوں کو ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ اس زمین کو ممکنہ طور پر جاسوسی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مسکو بحری اڈہ سویڈن کی بحریہ کے لیے ایک انتہائی حساس اور تزویراتی اہمیت کا حامل مرکز ہے، جہاں ملک کے اہم ترین دفاعی اثاثے موجود ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی طاقتوں کی جانب سے ایسے اہم مقامات کے قریب زمینیں خریدنا یا ان پر قبضہ رکھنا کسی بھی ملک کے لیے سکیورٹی رسک بن سکتا ہے۔ سویڈش فوج کا ماننا ہے کہ اس پلاٹ کی موجودگی سے بحری اڈے کی خفیہ کارروائیوں اور نقل و حرکت کی نگرانی کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ سویڈن کی حکومت اب اس قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا غیر ملکی ملکیت والی جائیداد کو قومی سلامتی کے تحفظ کے تحت کس طرح ضبط کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے پر ابھی تک روسی سفارت خانے کی جانب سے کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم تجزیہ کار اسے روس اور نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ایک نیا سلسلہ قرار دے رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی سویڈن اور دیگر نارڈک ممالک نے روسی جاسوسی نیٹ ورکس کے خلاف متعدد کارروائیاں کی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں سویڈش پارلیمنٹ اس معاملے پر بحث کرے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ملک کے دفاعی اڈوں کو ہر قسم کے ممکنہ بیرونی خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بالٹک خطے میں سکیورٹی کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور سویڈن اپنے دفاعی نظام کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔