LIVE
Loading Breaking News...

روبوٹ ٹیانگونگ کی حیران کن کارکردگی: یوسین بولٹ کا ریکارڈ خطرے میں

News Image
چین کے تیار کردہ روبوٹ 'ٹیانگونگ' نے 100 میٹر کی دوڑ نو سیکنڈ سے بھی کم وقت میں مکمل کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ یہ کارنامہ انسانی ایتھلیٹ یوسین بولٹ کے عالمی ریکارڈ سے بھی سات اعشاریہ کم وقت میں سرانجام دیا گیا ہے۔
چین نے ایک بار پھر ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنی برتری ثابت کرتے ہوئے 'ٹیانگونگ' نامی ایک ایسے روبوٹ کو متعارف کرایا ہے جس نے دوڑ کے میدان میں انسانی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بیجنگ میں منعقدہ ایک نمائشی کارکردگی کے دوران، اس روبوٹ نے 100 میٹر کا فاصلہ نو سیکنڈ سے بھی کم وقت میں طے کر کے ماہرین کو حیران کر دیا۔ یہ کامیابی اس لیے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ وقت دنیائے ایتھلیٹکس کے عظیم ترین کھلاڑی یوسین بولٹ کے 9.58 سیکنڈ کے عالمی ریکارڈ سے سات اعشاریہ کم ہے۔ اس روبوٹ کی تیاری میں جدید ترین سینسرز، مصنوعی ذہانت اور ہائیڈرولک سسٹم کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ یہ انسانی جسم کی حرکات و سکنات کی نقالی کرتے ہوئے انتہائی متوازن انداز میں دوڑ سکے۔ انجینیئرز کا کہنا ہے کہ ٹیانگونگ کا ڈیزائن اور اس کے پیروں کی ساخت اس طرح بنائی گئی ہے کہ یہ زمین کے ساتھ رگڑ کو کم سے کم کر کے اپنی رفتار میں اضافہ کرتا ہے۔ اس روبوٹک ٹیکنالوجی کا مقصد نہ صرف کھیلوں کے میدان میں بہتری لانا ہے بلکہ اسے مستقبل میں مشکل ترین انسانی کاموں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ روبوٹ کی یہ رفتار قابلِ ستائش ہے، لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ کیا روبوٹکس کا یہ شعبہ مستقبل میں عام انسانی مقابلوں کا حصہ بن سکے گا یا نہیں۔ چین کی جانب سے اس پیش رفت کو مصنوعی ذہانت اور میکینیکل انجینئرنگ کے امتزاج کا ایک بہترین نمونہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، ویسے ویسے روبوٹکس میں ہونے والی یہ تبدیلیاں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ آنے والے وقتوں میں مشینوں کی جسمانی صلاحیتیں انسانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہیں۔ اس کامیابی کے بعد، عالمی سطح پر روبوٹکس کی دنیا میں مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ ٹیانگونگ کی یہ کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ چین اب ٹیکنالوجی کے میدان میں صرف سافٹ ویئر ہی نہیں بلکہ ہارڈ ویئر اور روبوٹک حرکات و سکنات میں بھی دنیا کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہے۔ اب پوری دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا یہ روبوٹ آنے والے وقتوں میں اپنے ہی اس ریکارڈ کو مزید بہتر کر پائے گا یا نہیں۔