World
اسرائیلی فوج کی لبنان میں کارروائی، بیوفور قلعے کے قریب دھماکے
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی سرنگیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ یونیسکو کے نامزد کردہ تاریخی قلعے کے قریب بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یہ کارروائی خطے میں جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کا ایک اور بڑا حصہ ہے۔
بیروت: اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں ایک بڑی فوجی کارروائی کے دوران حزب اللہ سے منسلک سرنگوں اور عسکری تنصیبات کو دھماکوں سے اڑا دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ دھماکے یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل تاریخی بیوفور قلعے کے قریب ریکارڈ کیے گئے، جس سے تاریخی مقامات کی سلامتی کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سرحدی علاقوں میں عسکری توازن برقرار رکھنے اور عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے کے لیے کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق بیوفور قلعہ جو کہ جنوبی لبنان میں ایک اہم تزویراتی مقام رکھتا ہے، ماضی میں بھی جھڑپوں کا مرکز رہا ہے۔ حالیہ دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی علاقوں میں اس کی گونج سنی گئی اور دھواں دور دور تک دیکھا گیا۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ان کارروائیوں میں عسکریت پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے تاکہ شمالی اسرائیل کے شہریوں کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے تاہم اس حوالے سے جانی نقصان کی فوری طور پر کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب مقامی ذرائع اور مبصرین نے اس کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر تاریخی ورثے کے حامل علاقوں کے نزدیک فوجی سرگرمیوں پر بین الاقوامی اداروں کی خاموشی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ لبنان کی صورتحال روز بروز پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے اور ان تازہ دھماکوں کے بعد خطے میں ایک بار پھر جنگی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ فریقین کے درمیان جاری اس کشمکش نے عام شہریوں کی زندگی کو بھی شدید متاثر کیا ہے جبکہ عالمی برادری نے فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔